بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی )نے پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ تنظیم کے رکن نذر مری کی ایک سالہ جبری گمشدگی پر جاری بیان میں کہا ہے کہ نذر مری کی ایک سالہ جبری گمشدگی خاموشی نہیں، انصاف کا سوال ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نذر مری کی گمشدگی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر ایک سال کی خاموشی اس سوال کو ختم نہیں کر سکی کہ ایک پرامن سیاسی کارکن کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ نذر مری ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنے لوگوں کے دکھ، محرومی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ مگر اس کی آواز کو دبانے کے لیے اسے گمشدگی کے اندھیرے میں دھکیل دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نذر مری صرف ایک نام نہیں، بلکہ اس آواز کی علامت ہے جو ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے سامنے خاموش ہونے سے انکار کرتی ہے۔ وہ ایک پرامن بلوچ سیاسی کارکن ہے جس نے اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کے لیے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ مگر 27 اگست 2025 کو کوئٹہ کے گولیمار چوک سے اس کی جبری گمشدگی کو ایک سال گزر چکا ہے، اور اس طویل عرصے کے باوجود نذر مری کے مقام، حالت اور سلامتی کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
کمیٹی کے مطابق نذر مری کی گمشدگی محض ایک فرد کو اس کے خاندان سے جدا کرنے کا واقعہ نہیں، یہ انسانی حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر حملہ اور سیاسی اختلاف کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسے شخص کو غائب کر دینا جو پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتا ہو، اس کے خاندان کو طویل انتظار اور بے یقینی میں مبتلا رکھنا اور اس کے بارے میں کوئی واضح جواب نہ دینا انسانی حقوق اور انسانی وقار کی کھلی توہین ہے۔
مگر نذر مری کی جدوجہد محض اس کی ذات تک محدود نہیں۔ یہ اس بنیادی اصول کی جدوجہد ہے کہ ہر انسان کو اپنی بات کہنے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کا حق حاصل ہے۔ خوف، جبر اور جبری گمشدگیاں کسی شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جس سیاسی شعور سے خوفزدہ ہو کر لوگوں کو غائب کیا جاتا ہے، اسے دبانے کے بجائے اس کے وجود کو سمجھنے اور اس کے ساتھ مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ترجمان کے مطابق اگر پرامن سیاست کو خطرہ سمجھ کر سیاسی کارکنوں کی آوازیں خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور مکالمے کے تمام راستے بند کیے جاتے رہے تو اس کے نتائج نہ صرف مزید بے یقینی اور کشیدگی کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ ان حالات کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوگی جو پرامن سیاسی اظہار کے راستے محدود کر رہی ہیں۔
آخر میں ان کا کہناتھا کہ نذر مری کی آزادی صرف ایک فرد کی آزادی کا مطالبہ نہیں، بلکہ انسانی وقار، سیاسی آزادی، آزادیِ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ ہے۔