بلوچستان کے علاقے کوئٹہ اور پنجگور سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں ایک بلوچ طالبہ سمیت مزید تین نوجوانوں کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق صفیہ بلوچ دختر عبد الخالق ، عمر 20 سال، پیشہ طالبہ، ساکن کلی زیاکت بیسیمہ (واشک) کو 23 اگست 2026ء کو رات 1:00 بجے کوئٹہ سے سی ٹی ڈی (CTD) اور آئی ایس آئی (ISI) نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔
اسی طرح نصیب اللہ بلوچ ولد علی مراد ، عمر 23 سال، پیشہ دکاندار، ساکن کلی سردار کاریز ویسٹرن بائی پاس کوئٹہ کو 28 جولائی 2026ء کو صبح 4:00 بجے ان کے گھر کلی سردار کاریز ویسٹرن بائی پاس کوئٹہ سے سی ٹی ڈی (CTD) اور ایم آئی (MI) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔
علاوہ ازیں حسنائین امداد ولد امداد بلوچ، عمر 16 سال، پیشہ ڈرائیور، ساکن سراوان (پنجگور) کو 21 اگست 2026ء کو شام 5:00 بجے بس ٹرمینل پنجگور کے قریب سے سی ٹی ڈی (CTD) اور ایم آئی (MI) نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔