بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر واقع پلوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں بدستور اضافہ جاری ہے، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے ہوئے مزید دو پلوں کو تباہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کی شام اور دیر گئے قومی شاہراہ پر کھڈکوچہ کے علاقے ریکی بوز میں واقع ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریب واقع مکانات کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچا، تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثنا، قومی شاہراہ پر ہی چھوٹے مل کے قریب واقع ایک اور پل کو بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔
ان دونوں واقعات کے بعد کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت اور گاڑیوں کی روانی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 26 اگست کے پیشِ نظر بلوچستان بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور کوئٹہ سمیت اہم شاہراہوں پر فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ خاران اور چاغی سمیت دیگر علاقوں میں مسلح تنظیموں کی جانب سے اسنیپ چیکنگ، ناکہ بندی اور سرکاری املاک و سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی رپورٹس ہوئی ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر 26 اگست نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے باعث ایک انتہائی حساس دن تصور کیا جاتا ہے۔