قلات اور چاغی میں تجارتی قافلوں پر مسلح حملے، 10 گاڑیاں ناکارہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں تجارتی روٹ پر گاڑیوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں قلات اور کوئٹہ تفتان تجارتی شاہراہ پر مسلح افراد نے تجارتی ٹرکوں اور گاڑیوں کے قافلوں کو نشانہ بنایا ہے۔

قلات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مرکزی شاہراہ کے قریب مسلح افراد نے تجارتی ٹرکوں کے قافلے پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چھ ٹرکوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے صرف گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ تفتان تجارتی شاہراہ پر چاغی کے علاقے چہتر کے قریب گیس پلانٹ کے مقام پر مسلح افراد نے گزشتہ روز تجارتی گاڑیوں کے قافلے میں شامل چار گاڑیوں کو تحویل میں لے کر ان پر فائرنگ کی اور انہیں ناکارہ کر دیا۔

مذکورہ گاڑیوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بڑے قافلے کی شکل میں فورسز کے ہمراہ علاقے سے گزر رہی تھیں، تاہم فورسز انہیں سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز بھی چاغی کے علاقے چارسر میں تجارتی گاڑیوں اور ان کو سیکورٹی فراہم کرنے والے فورسز کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں فورسز کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

چارسر حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (BLA) قبول کرچکی ہے۔

بلوچستان میں ایرانی سرحد اور دیگر شہروں سے منسلک تجارتی روٹس پر بلوچ لبریشن آرمی نے "معاشی ناکہ بندی” کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد تجارت اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، قلات اور چہتر میں ہونے والے تازہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article