بلوچستان کے ضلع گوادر میں پاکستانی فورسزایف سی کی سیکیورٹی چیک پوسٹ سے متعلق ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کرنے پر جماعت اسلامی کے بلوچستان کے امیر اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر میں چیک پوسٹ پر گاڑی روکنے کے واقعے کی ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر جاری کیا جس پر متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ ایس ایچ او بشیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 353، 186، 503، 504، 505 اور 506 شامل کی گئی ہیں۔ جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کی کمیونٹیز دریافت کرنا۔ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیک پوسٹ پر پیش آنے والے واقعے کے دوران سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مزاحمت، تلخ کلامی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی شروع کردی ہے۔
یاد رہے کہ مذکورہ چیک پوسٹ کے حوالے سے ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیونی اور پیشکان سے آنے والی خواتین کو چیک پوسٹ پر روک کر پردہ ہٹوا کر کیمروں کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے، جسے انہوں نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔
چیک پوسٹ کے سامنے جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر خواتین کی عزتِ نفس مجروح کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول وہ علاقے کے منتخب نمائندے ہیں اور اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی اس طرح مبینہ توہین ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ خواتین کی پرائیویسی متاثر کرنے والے کیمرے فوری طور پر ہٹائے جائیں اور معاملے کا نوٹس لے کر ضروری کارروائی کی جائے۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ عوام کو ساتھ لے کر مونڈی چیک پوسٹ پہنچیں گے اور وہاں دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔