بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے معروف عالمی جریدے ’دی سنڈے گارڈین‘ (The Sunday Guardian) کے سینئر صحافی ابھینندن مشرا کو دیے گئے ایک تازہ ترین خصوصی انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا واحد اور حتمی حل مکمل آزادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب بین الاقوامی طاقتوں کی ضمانت پر پاکستانی فوج کے انخلا کا محفوظ راستہ طے کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی عسکری کارروائیوں میں شدت بلوچ قوم پرست نظریے سے لیس نئی نسل (Gen Z) کی شمولیت کا نتیجہ ہے۔ بلوچ گوریلا جنگجو اب جدید سیاسی و عسکری حکمتِ عملی اور تین دہائیوں کے جنگی تجربے کے ساتھ میدان میں ہیں۔
ڈاکٹر اللہ نذر نے ریکو ڈک، سیندک اور دیگر معدنی منصوبوں کو بلوچ وسائل کا استحصال قرار دیتے ہوئے تمام غیر ملکی کمپنیوں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے ساتھ شراکت میں شروع کیے جانے والے ایسے تمام منصوبے ان کا قانونی ہدف ہیں۔
بی ایل ایف سربراہ نے کہا کہ بھارت خطے کی بڑی جمہوریت ہے، اس لیے اسے بلوچ آزادی کی تحریک کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کو بین الاقوامی جنگی زون (International War Zone) قرار دے۔
انہوں نےکہا کہ پاکستانی فوج عام آبادیوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری اور ماورائے عدالت قتل عام میں ملوثہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوراب کے علاقے گدر میں حالیہ بمباری سمیت ماضی میں مشکے اور آواران میں شہریوں کا قتلِ عام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر سلامتی کونسل کو کارروائی کرنی چاہیے۔
بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر امریکی پابندیوں کے سوال پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن جلد اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گا، کیونکہ حال ہی میں چین اور پاکستان کی جانب سے BLA پر پابندی کی قرارداد کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل میں مسترد کر دیا تھا۔
نوٹ: مکمل انٹرویو درج ذیل لنک پر انگریزی میں دستیاب ہے۔
انٹرویو لنک : Allah Nazar Baloch seeks India’s support for freedom movement