بلوچستان کے علاقے چاغی اور خاران میں پیش آنے والے دو مختلف واقعات میں مسلّح افراد نے تجارتی شاہراہ پر گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا جبکہ پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر کام کرنے والے کمپنی کے کارندوں کو اغوا کر لیا۔
کوئٹہ تفتان شاہراہ پر دالبندین کے علاقے چارسر کے مقام پر مسلّح افراد نے 5 تجارتی گاڑیاں لوڈ سمیت اپنی تحویل میں لے لیں۔
تحویل میں لی گئی گاڑیوں میں کوئٹہ سے تفتان جانے والی 3 اور تفتان سے کوئٹہ آنے والی 2 گاڑیاں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ خطے میں معاشی ناکہ بندی کے تحت پچھلے چار مہینوں سے تجارتی گاڑیوں پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں، جن کی اکثریت کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) قبول کر چکی ہے۔
دوسری جانب ضلع خاران کے علاقے البت میں آج دوپہر تقریباً 2 بجے مسلّح افراد نے پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ کی تعمیر میں مصروف کمپنی کے کارندوں کو یرغمال بنا کر اغوا کر لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
مغوی مزدوروں کی درست تعداد اور موجودہ جگہ کے بارے میں فی الحال معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔
حکام اور انتظامیہ کی جانب سے ان دونوں واقعات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ موقف یا مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔