بلوچستان کے ضلع خاران کے قریب سیکیورٹی و انفراسٹرکچر پر حملوں کے تسلسل میں نامعلوم مسلح افراد نے خاران کراچی شاہراہ پر واقع ایک اہم پل کو بھاری مشینری کی مدد سے مکمل طور پر اکھاڑ کر تباہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ خاران کے قریب سوتکاگن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کے اہم پل کو شدید نقصان پہنچایا اور اکھاڑ پھینکا۔
پل کی تباہی کے باعث خاران اور کراچی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر ہر قسم کی گاڑیوں اور تجارتی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے، جس سے مسافروں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ اگست کے مہینے میں، جہاں ایک طرف سرکاری سطح پر یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، وہی دوسری طرف بلوچستان کے بیشتر حصوں میں عوامی و سیاسی سطح پر اسے ‘یومِ سیاہ’ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس ماہ کے دوران بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز، سرکاری املاک اور اہم مواصلاتی و سرکاری تنصیبات پر حملوں میں غیر معمولی شدت آ جاتی ہے۔
بلوچستان کے متعدد اضلاع اور مرکزی شاہراؤں پر مسلح افراد کی کارروائیوں اور ناکہ بندیوں کے باعث سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اکثر اپنے کیمپوں اور تھانوں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور مسلح تنظیموں کا راج ہوتا ہے۔