بلوچستان کے ضلع چاغی میں اہم بین الاقوامی تجارتی روٹ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر سیکیورٹی صورتِ حال شدید تشویشناک ہو گئی ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے تجارتی قافلوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ناکام کوششوں کے درمیان مسلح افراد نے شاہراہ کے متعدد پوائنٹس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے حملوں اور تجارتی گاڑیوں کو تحویل میں لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
تجارتی روٹ سے موصول ہونے والی تازہ ترین تفصیلات کے مطابق چاغی کے علاقے چارسر میں مسلح افراد نے سیکورٹی فورسز اور تجارتی گاڑیوں کے مشترکہ کانوائے کو تین مختلف مقامات پر حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ان منظم حملوں کے نتیجے میں پاکستانی فوج کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ تجارتی سامان لے جانے والے کانوائے کو سنگین مالی و سیکیورٹی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دالبندین ہی کے قریب چہتر کے مقام پر مسلح افراد نے شاہراہ سے گزرنے والے ایک بڑے تجارتی کانوائے میں شامل ایک تجارتی گاڑی کو تجارتی سامان (لوڈ) سمیت اپنے قبضے میں لے کر نامعلوم سمت منتقل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسی شاہراہ پر فورسز کے ڈسپیچز پر حملوں اور کئی تجارتی گاڑیوں سمیت ڈرائیوروں کو تحویل میں لینے کے واقعات پیش آئے تھے۔
سیکڑوں گاڑیوں پر مشتمل کانوائے کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے میں فورسز کی عدم ناکامی کے باعث تاجروں، ڈرائیوروں اور سرحدی تجارت سے منسلک دیگر افراد میں سخت تشویش اور خوف پھیلا ہوا ہے، جبکہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر تجارتی آمدورفت شدید متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔