خاران: فوجی آپریشن کے دعوے کے بعد 2 لاشیں برآمد، جعلی مقابلے اور جبری گمشدگیوں کے خدشات گہرے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خاران میں پاکستانی فوج کی جانب سے 7 مسلح افراد کو ہلاک کرنے کے دعوے کے بعد شہر اور گردونواح سے2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس سے تمام معاملے کے گرد خدشات اور سوالات نے شدید جنم لے لیا ہے۔

گزشتہ روز پاکستانی فوج کے سیکیورٹی ذرائع نے میڈیا کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ خاران کے علاقے لجے میں "آپریشن ردالفتنہ 3” کے تحت ایک انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں 7 مسلح افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، حسبِ روایت سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے میڈیا پر ہلاک افراد کی شناخت ظاہر کی گئی اور نہ ہی لاشوں کو کسی ہسپتال منتقل کرنے کے شواہد سامنے آئے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب حالیہ دنوں میں بلوچ مسلح تنظیموں کے شدید حملوں کے ردِعمل میں فورسز پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ تحویل میں موجود نہتے جبری لاپتہ افراد کو قتل کر کے انہیں عسکریت پسند ظاہر کر رہی ہیں۔

فوجی دعوے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس اور مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خاران کے علاقوں زاروزئی اور سور بڈو سے دو لاشیں برآمد کر کے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

زاروزئی سے برآمد لاش کی شناخت غلام حیدر ولد شاہجان کے نام سے ہوئی ہے۔جبکہ سور بڈو شہر سے دو کلومیٹر دور برآمد ہونے والی دوسری لاش شدید مسخ شدہ ہے، جس کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

مقامی سیاسی و سماجی حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے قوی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برآمد ہونے والی لاشیں انہی افراد کی ہو سکتی ہیں جنہیں فوج نے دعوے کے مطابق ہلاک کیا تھا۔

اس صورتِ حال نے بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ اگر مذکورہ افراد واقعی کسی باقاعدہ مقابلے میں مارے گئے مسلح عسکریت پسند تھے، تو فورسز نے انہیں قانون کے مطابق ہسپتال منتقل کیوں نہیں کیا؟

لاشوں کو ہسپتال یا ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے الگ تھلگ علاقوں میں کیوں پھینکا گیا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کی طرح اس بار بھی یہ قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوج نے اپنی تحویل میں پہلے سے موجود لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے یا دورانِ حراست قتل کر کے انہیں "عسکریت پسند” کا نام دیا ہے۔ اگرچہ ایک لاش کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم دوسری لاش کی شناختی عمل کی مکمل رپورٹ سامنے آتے ہی حقیقت مزید واضح ہو جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article