بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں فائرنگ اور بم دھماکے کے دو مختلف واقعات میں افغان طالبان مخالف سابق کمانڈر سمیت 3 افرادہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ کوئٹہ شہر میں پیش آیا جہاں افغانستان کی سابق حکومت کے دور میں صوبہ قندھار کے مقامی کمانڈر رہنے والے حاجی ورور اچکزئی کو نامعلوم مسلح افراد نےفائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
حاجی ورور اچکزئی اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد اپنا ملک چھوڑ کر بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں مقیم تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی حالیہ دنوں 2 سابق افغان سیکورٹی اہلکاروں کو کوئٹہ میں قتل کردیا گیا تھا۔
بلوچستان میں سابق افغان سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے قتل کے محرکات تاحال سامنے نہیں آسکے البتہ یہ اطلاعات میڈیا میں سامنے آئی تھیں کہ پاکستانی فوج سابق افغان سیکورٹی اہلکاروں کو بلوچستان میں بلوچ آزادی پسند سیاسی و مسلح تنظیموں کے کارکنان کے خلاف استعمال کر رہی ہے تاہم اس بات کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
دوسری جانب، کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک کی ولی تنگی داوا روڈ پر سڑک کنارے نصب بم (IED) کے دھماکے میں 2 افراد ہلاک اور 2 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق تمام چاروں متاثرہ افراد کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اب تک دونوں واقعات کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔