لندن میں یومِ تجدیدِ عہدِ بلوچ کی تقریب: بلوچ قوم کی آزادی ناگزیر ہے، منزل کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے زیرِ اہتمام 11 اگست کو لندن میں ‘یومِ تجدیدِ عہدِ بلوچ’ کی مناسبت سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں 11 اگست 1947 کو بلوچستان کی آزادی کے اعلان کی تاریخی اہمیت، بلوچستان کی تاریخ، سیاسی جدوجہد اور پاکستانی قبضے سے بلوچ قوم کی آزادی کے مطالبے کو اجاگر کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ 11 اگست کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بلوچ قوم دنیا کے حاشیے پر رہنے والا کوئی بے نام و نشان انسانی گروہ نہیں جسے آسانی سے تاریک گوشے میں دھیکیلا جا سکے، بلکہ ایک تاریخی قوم ہے جس سے اس کی آزادی چھینی گئی ہے۔ پاکستان نے طاقت کے زور پر بلوچستان پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے وہ بے رحم فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اجتماعی سزا کے تحت گاؤں کے گاؤں مسمار کیے جا رہے ہیں۔ ہر سال یہ دن ہمیں ہماری چھینی گئی آزادی کی یاد دلاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ وہ اب بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ آج کے دن ہم اپنے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ بلوچ وطن کی آزادی کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مقررین نے مزید کہا کہ 13 نومبر 1839ء کو برطانیہ نے کلات پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں بلوچستان کی طویل غلامی کا آغاز ہوا، لیکن اس دن خانِ بلوچ میر محراب خان کی مزاحمت نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی مزاحمت اور دیگر بلوچ رہنماؤں کے ہمراہ ان کی شہادت، حقِ حاکمیت اور قومی خودمختاری کے لیے بلوچ قوم کے جذبے اور قربانیوں کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ بلوچ قوم اپنی آزادی کی جدوجہد سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگی۔ بلوچستان پر طاقت کے زور پر قبضے کے اثرات یکطرفہ طور پر صرف بلوچ قوم تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ دنیا کے اس اہم خطے میں مستقل امن کا قیام صرف بلوچستان کی آزادی سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان جیسی غیر مستحکم ریاست کی بدولت یہ خطہ بھی مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ دنیا سے بلوچ قوم کا مطالبہ غیر معمولی یا ناجائز نہیں؛ بلوچ قوم محض اپنی چھینی گئی آزادی واپس چاہتی ہے۔ قومی وقار، شناخت اور اپنے مستقبل کے فیصلے پر بلا شرکتِ غیرے حق کا حصول، بلوچ قومی جدوجہد کے بنیادی مقاصد ہیں۔ بی این ایم ایک ایسے بلوچستان کی خواہاں ہے جو انسانی بنیادوں پر آزاد ہو اور جہاں عوام کو برابری اور انصاف میسر ہو۔

تقریب کی میزبانی کے فرائض جاسم بلوچ نے انجام دیے، جبکہ قمبر بخش، منظور بلوچ، عابد بلوچ، حسام ابراہیم، بجر علی، بختیار محمد عظیم اور عبدالغفار نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article