بلوچستان میں چھٹے روز بھی گڈز ٹرانسپورٹ معطل ، ہڑتال جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں چھٹے روز بھی گڈز ٹرانسپورٹ معطل رہی ہے اور ہڑتال جاری ہے ۔

بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال ملک بھر کی طرح بلوچستان میں چھٹے روز بھی جاری رہی اور گڈز ٹرانسپورٹ مکمل بند ہونے کی وجہ سے لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا مکمل عمل رکا ہوا ہے اور تمام ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کے حصول کے لئے متحد ہوکر سراپا احتجاج ہیں جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں حاجی روزی خان مندوخیل، ملک نور خان کرد، محمد امین، سہیل خان کاکڑ، ظاہر شاہ، جعفر خان کاکڑ، حاجی محمد گل، مبین شاہ کاکڑ، ابراہیم پرکانی، اسماعیل لہڑی، حاجی عطاء اللہ خان، داوود کرد، نور احمد شاہوانی، نور احمد مینگل، عبدالمجید پرکانی، منیر احمد، بابو محمد شہی، حاجی محمد اسلم سمیت آل بلوچستان منی مزدا گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابو جان رئیسانی، لالا قدیم بڑیچ، عبدالحق مینگل، یونس پٹھان اور دیگر ٹرانسپورٹرز کی بڑی تعداد شریک تھیں۔

اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے کہا کہ پاکستان بھر اور دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی ملک گیر ہڑتال چھٹے روز بھی جاری رہی۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی مکمل بندش کے باعث لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا عمل مکمل طور پر رک چکا ہے اور ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کے حق میں متحد ہوکر سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان پر باقاعدہ عملی پیش رفت نہیں ہوتی، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے ساتھ ہمارا احتجاج اور ہڑتال جاری رہے گی۔

حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے اور فوری طور پر ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے تمام گڈز ٹرانسپورٹرز اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے متحد ہیں اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی متفق ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج اور حکومت پاکستان بشمول بلوچستان حکومت کی جانب سے بلوچ عوام کی قیمتی معدنیات کی درآمد اور غیر قانونی ترسیل کے خلاف بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم مسلح تنظیمیں انتہائی متحرک ہیں جہاں حالیہ مہینوں نے معدنیات سے لدے متعددگاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے اور یہ عمل ہنوز جاری ہے جس حکومت پاکستان اور ان سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے جنہوں نے معدنی شعبہ میں سرمایہ کاری کی ہے ۔

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کا موقف ہے کہ بلوچستان کی معدنیات بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہیں اسے کسی بھی صورت میں ہڑپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article