سوراب گدر بمباری: فوجی بیانیہ مسترد، ہلاکتوں کی تعداد 20 سے متجاوز، لاشوں کی عدم فراہمی پر شاہراہ بلاک ، احتجاج جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے ‘گدر’ میں عام آبادی پر پاکستانی فوج کی جیٹ طیاروں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد شدید عوامی اشتعال پھیل گیا ہے۔

مقامی شہریوں اور مظاہرین نے پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے دعوے کو سراسر جھوٹ اور ‘ڈرامہ’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور واقعے کو بلوچ نسل کشی کا بھیانک ریاستی جنگی جرم قرار دیا ہے۔

متاثرہ شہریوں اور مقامی ذرائع کے مطابق رات کے وقت کی گئی بمباری سے عام شہریوں کے گھر تباہ ہوئے، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ امدادی ٹیموں اور مقامی افراد کی جانب سے مرتب کی گئی ابتدائی فہرست میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں معمر خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

ہلاکتوں اور شدید زخمیوں میں 1 سالہ الہیر، 2 سالہ فاطمہ اور ضیاء الرحمن، 4 سالہ سعدیہ اور حبیبہ، 5 سالہ رابعہ اور 12 سالہ عاصم شامل ہیں۔

معمر خاتون مراد بانو (زوجہ رسول بخش) کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ زہرہ بنت عبدالعزیز، شاہ سارہ، صابیہ اور ہاجرہ سمیت کئی خواتین اور مرد شدید زخمی ہیں۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اب تک کئی ہلاک افراد کی لاشیں فوج کی تحویل میں ہیں جنہیں ورثاء کے حوالے نہیں کیا جا رہا۔

عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ فورسز واقعے کے تمام شواہد کو مٹانے اور حقیقت کو چھپانے کے لیے جائے وقوعہ کو مکمل کنٹرول میں لیے ہوئے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز سے عام آبادی اور بچوں پر جیٹ طیاروں کی بمباری واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔

واقعے کے خلاف اور لاشوں کی تحویل و ناانصافی کے برعکس سوراب کے مقام پر کراچی-کوئٹہ مین شاہراہ کو تمام تر آمدورفت کے لیے بلاک کر کے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر خود کو بچانے کے لیے جھوٹے کہانیاں گھڑ رہا ہے، جبکہ حقیقت میں غیر دفاعی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے واقعے پر اپنا موقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوراب میں شدت پسند گاڑی میں نصب کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کر رہے تھے جو قبل از وقت پھٹ گیا۔

آئی ایس پی آر کے دعوے کے مطابق بارودی مواد کے دھماکے سے 8 مسلح افراد ہلاک ہوئے اور قریب واقع رہائش گاہوں کو نقصان پہنچنے سے 3 شہری بھی مارے گئے۔سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے فوری مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا اور فرار ہونے والے مزید 10 مسلح افراد کو کارروائی میں ہلاک کر دیا۔

عسکری حکام کے مطابق اس کارروائی میں مجموعی طور پر 18 مسلح افراد مارے گئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم، سوراب کے مقامی عوام اور مظاہرین نے عسکری ترجمان کے اس بیان کو یکسر رد کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article