بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ضلع سوراب میں پاکستانی فوج کی جانب سے ہونے والی بمباری اور جانی نقصان پر عالمی خاموشی پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نےبمباری سے ہلاک اور متاثرہ افراد کی تصاویر سوشکل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان تصاویر کو دیکھ کر کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ غزہ یا فلسطین کی تصاویر ہیں، جہاں اسرائیلی بمباری نے بچوں، بزرگوں اور دیگر عام شہریوں کو شہید کیا ہے۔
لیکن یہ غزہ نہیں ہے،یہ بلوچستان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کل رات، پاکستانی فوج نے بلوچستان کے علاقے سوراب پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 27 عام شہری مارے گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تصاویرجن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیںانتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔
بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کوئی منفرد یا تنہا واقعہ نہیں ہے۔ دہائیوں سے بلوچ عوام کو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، ملٹری آپریشنز اور منظم تشدد کا سامنا ہے۔یہ بلوچ عوام کی نسل کشی ہے، اور یہ روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ عوام کی مصائب کا یہ سلسلہ 1948 میں پاکستان کے بلوچستان پر قبضے کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔دنیا حق بجانب ہو کر غزہ کے بچوں کے لیے اپنی آواز اٹھاتی ہے۔ بلوچستان کے بچے بھی اسی توجہ، یکجہتی اور تحفظ کے مستحق ہیں۔