بلوچستان کے سب سے بڑے اور تاریخی طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے بولان میڈیکل کالج کے طلبہ و طالبات نے گزشتہ دو سال سے اسپورٹس ویک، ویلکم پارٹیز اور دیگر غیر نصابی، علمی و ثقافتی سرگرمیوں کی معطلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران کالج میں ویلکم پارٹیز، اسپورٹس ویک، فن فیئر، کلچر شوز، میوزیکل نائٹس، قوالی نائٹس اور اسٹڈی سرکلز سمیت متعدد مثبت، علمی، ثقافتی اور تعمیری سرگرمیوں کا انعقاد نہیں کیا گیا، جس کے باعث طلبہ ایک صحت مند اور متوازن تعلیمی ماحول سے محروم ہیں۔
طلبہ کے مطابق بلوچی چاپ اور پشتون اتن جیسی روایتی ثقافتی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالجز میں عموماً امتحانات کے اختتام پر طلبہ خوشی کے اظہار کے لیے چاپ، اتن اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں، تاہم بولان میڈیکل کالج میں ایسے مواقع پر بھی طلبہ کو مشکلات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طلبہ کا مزید دعویٰ ہے کہ بعض مواقع پر ہاسٹلز کے اندر طلبہ کی ثقافتی سرگرمیوں کے دوران پولیس کی آمد اور طلبہ کو مبینہ طور پر دھمکانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں اور ہاسٹلز میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں طلبہ اپنی ثقافت اور روایات کو پُرامن، مثبت اور باوقار انداز میں منا سکیں۔
طلبہ و طالبات کا مؤقف ہے کہ ایک میڈیکل کالج میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسٹڈی سرکلز، علمی مباحث، ثقافتی پروگرامز، کھیلوں اور دیگر صحت مند غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ کی ذہنی، علمی، جسمانی اور سماجی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ میں باہمی ہم آہنگی، قائدانہ صلاحیتوں، تخلیقی سوچ، خود اعتمادی اور علمی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی ان جائز سرگرمیوں کی بحالی اور دیگر مطالبات کے حوالے سے کالج کے پرنسپل سے ملاقات کرتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر جواب دیا جاتا ہے کہ "اوپر سے پابندی ہے”۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ اگر واقعی ان سرگرمیوں پر کسی اعلیٰ سطح سے پابندی عائد ہے تو انتظامیہ اس کی واضح وضاحت کرے اور طلبہ کو بتایا جائے کہ ان کی تعلیمی، ثقافتی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی کی اصل وجہ کیا ہے۔
طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں مرحلہ وار احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس کے پہلے مرحلے میں کلاسز اور امتحانات کے بائیکاٹ سمیت دیگر احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔ طلبہ کے مطابق احتجاج کے اگلے مرحلے میں کالج کے مرکزی گیٹ پر دھرنا دے کر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا اور مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
طلبہ کا بنیادی مطالبہ ہے کہ کالج میں تمام جائز، مثبت اور صحت مند غیر نصابی سرگرمیوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے، جن میں اسپورٹس ویک، ویلکم پارٹیز، فن فیئر، کلچر شوز، میوزیکل نائٹس، قوالی نائٹس، اسٹڈی سرکلز اور دیگر ثقافتی و علمی سرگرمیاں شامل ہیں۔
طلبہ نے واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد کالج میں ایک ایسا تعلیمی ماحول یقینی بنانا ہے جہاں طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی علمی، تخلیقی، ثقافتی اور جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ طلبہ نے کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر مثبت اور قابلِ عمل اقدامات کرے، بصورتِ دیگر طلبہ اپنی احتجاجی تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔