ضلع چاغی: سیکیورٹی اسکواڈ میں شامل آموں سے لدی 5 مزدا گاڑیاں اغوا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے چہتر میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فوج اور فرنٹیئر کور کی سیکورٹی اسکواڈ کی تحویل اور حفاظت میں جاری تجارتی قافلے سے آموں سے لدی 5 مزدا گاڑیوں کو چھین کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ تمام گاڑیاں سیکیورٹی اسکواڈ کی تشکیل کے بہانے گزشتہ دو دنوں سے نوشکی میں روکی گئی تھیں۔ جب پاکستانی فوج اور ایف سی (FC) کی نگرانی میں باقاعدہ قافلہ (Convoy) تشکیل دے کر گاڑیوں کو دالبندین اور تفتان کی جانب روانہ کیا گیا، تو چہتر کے مقام پر مسلح افراد نے فورسز کی موجودگی کے باوجود پانچوں مزدا گاڑیوں کا گھیراؤ کر کے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا اور فرار ہو گئے۔

اس واقعے پر ٹرانسپورٹرز نے شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ فوج اور فرنٹیئر کور کے سخت اسکواڈ میں شامل ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کو کس طرح یرغمال بنا کر اغوا کیا جا سکتا ہے؟

واضح رہے کہ اسی علاقے (چہتر) میں گزشتہ روز بھی ایک کارگو بس کو ڈرائیور اور دو کنڈکٹروں سمیت اغوا کیا گیا تھا، جس میں 1200 کارٹن آم اور چاول کی بڑی کھیپ لدی ہوئی تھی اور وہ کوئٹہ سے تفتان جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز اغوا کی جانے والی کارگو بس کے ڈرائیور اور دونوں کنڈکٹروں (عملے) کو رہا کر دیا گیا ہے جو باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں، تاہم کارگو بس اور اس میں لدا کروڑوں روپے کا سامان تاحال لاپتہ ہے اور اغوا کاروں کے قبضے میں ہے۔

مسلسل دوسرے دن تجارتی سامان سے لدی گاڑیوں کی ہائی جیکنگ سے خطے میں تاجروں اور ڈرائیوروں میں سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ فوج یا فرنٹیئر کور کی جانب سے ان واقعات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا گیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article