بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے خضدار کے علاقے شہداد سٹی میں ریٹائرڈ ٹیچر اور اسما جتک کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک کے سفاکانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے ملزم ظہور جمالزئی کی کھلی بربریت قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ماسٹر عنایت اللہ کا قتل کوئی ناگہانی واقعہ نہیں بلکہ مسلسل دھمکیوں کے بعد پیش آیا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ظہور جمالزئی نے اسما جتک کے چچا اشرف نچاری کو بھی قتل کیا تھا اور فون پر اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خاندان کے دیگر افراد کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ والد کے قتل سے محض چند گھنٹے قبل اسما جتک کا ایک اور ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اپنے والد اور بھائیوں کے قتل کے خدشات کا اظہار کیا تھا، جو بدقسمتی سے حقیقت کا روپ دھار گیا۔
بی این ایم کے چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین پر مظالم، اختلاف اور دباؤ ڈال کر بیانات دلوانا عام ہو چکا ہے، جبکہ ڈیتھ اسکواڈز کو سرپرستی حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد جمہوری تنظیمیں، پارلیمنٹری جماعتیں اور سول سوسائٹی اس بربریت پر خاموش ہیں اور اس بحران کا واحد حل آزاد بلوچستان ہے جہاں خواتین و بچیاں باوقار اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔
بی این ایم کے انسانی حقوق کے شعبے ’پانک‘ (Paank) اور مقامی صحافتی رپورٹس کے مطابق اسما جتک کو فروری 2024 میں پولیس لائنز خضدار سے ڈیتھ اسکواڈ گروہ کے ملزم ظہور جمالزئی اور اس کے بھائی رحیم بخش نے اغوا کیا تھا۔
‘پانک’ کی پورٹ کے مطابق اغوا کے بعد ملزمان نے دباؤ ڈال کر اسما کی ویڈیو ریکارڈ کی جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہیں۔
عوامی احتجاج کے بعد ملزمان نے اسما کو خضدار پولیس پارٹی کے قریب چھوڑ دیا، تاہم عدالت میں پیشی سے قبل یہ دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے مرضی سے شادی کا بیان نہ دیا تو اس کے والد اور بھائیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔
‘پانک’ کے جاری کردہ دستاویزات اور تصویروں میں کہا گیا ہے کہ ڈیتھ اسکواڈز کے سربراہ رحیم بخش جمالزئی اور ظہور جمالزئی کو پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نواب ثناء اللہ زہری اور سابق سینیٹر میر نعمت اللہ زہری کی سیاسی و انتظامی تحفظ حاصل ہے، جس کے باعث سنگین جرائم کے باوجود ملزمان قانون کی گرفت سے آزاد گھوم رہے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے اسما جتک کے خاندان پر جاری مظالم کے خلاف عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔