بلوچستان کے علاقے خضدار سے تعلق رکھنے والی خاتون اسما جتک کی جانب سے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان کے تحفظ کے لیے جاری کیے گئے ویڈیو پیغام کے چند گھنٹے بعد ہی ان کے والد عنایت اللہ جتک کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
اسما جتک نے والد کے قتل سے محض چند گھنٹے قبل ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں اغوا کرنے والا ملزم ظہور جمالزئی اب بھی انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔ اسما نے الزام عائد کیا کہ ملزم اور اس کے گروہ کی جانب سے ان کے والد اور بھائیوں کو قتل کرنے اور انہیں دوبارہ اغوا کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر انہیں، ان کے والد یا بھائیوں کو کوئی نقصان پہنچا یا قتل کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ظہور جمالزئی، سردار ثناء اللہ زہری (سابق وزیر اعلیٰ و موجودہ ایم پی اے بلوچستان ) اور موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پر عائد ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی تنبیہ کی تھی کہ اگر بلوچستان حکومت اور مقامی سرداروں نے انہیں انصاف اور تحفظ فراہم نہ کیا تو وہ اپنی جان دینے پر مجبور ہو جائیں گی۔
واضح رہے کہ اسما جتک کو 5 فروری 2024 کو خضدار پولیس لائن سے ریاستی و حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ (جسے مقامی سطح پر ڈیتھ اسکواڈ کہا جاتا ہے ) نے اغوا کر لیا تھا، جس کے بعد ملزم ظہور جمالزئی کی جانب سے زبردستی شادی کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا۔
اس واقعے پر بلوچستان بھر میں شدید احتجاج کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مداخلت سے اسما کو بازیاب کرا لیا گیا تھا۔ حکومت نے اس وقت ملزمان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا، تاہم اسما کے مطابق ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ مذکورہ گروہ سابق وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کی سرپرستی میں کام کرتا ہے، اور اغوا کا مرکزی ملزم ظہور جمالزئی اور اس کے بھائی زہری اور گرد و نواح میں اس گروہ کی قیادت کرتے ہیں۔
اسما جتک کی جانب سے تحفظ کی واضح اپیل کے باوجود ان کے والد عنایت اللہ جتک کے قتل نے انتظامیہ کی کارکردگی اور حکومتی دعووں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ظہور جمالزئی نے ہی فائرنگ کر کے عنایت اللہ جتک کو قتل کیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ملزمان کی فوری گرفتاری اور خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔