خضدار، لسبیلہ، سوراب اور دالبندین میں پاکستانی فوج پر مہلک حملے، متعدد اہلکارہلاک،9 زیر حراست

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں خضدار، لسبیلہ، سوراب اور دالبندین میں پاکستانی فوج اور پولیس پر مسلح حملوں اور کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت، گاڑیوں کی تباہی اور چوکی پر قبضے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

ابتدائی رپورٹوں کے مطابق، خضدار کے علاقے لکھریان میں مسلح بلوچ آزادی پسندوں نے پاکستانی فو ج کی پانچ گاڑیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب، ایک الگ واقعے میں مسلح افراد نے لسبیلہ میں کوئٹہ-کراچی تجارتی شاہراہ (آر سی ڈی ہائی وے) پر قائم ایک پولیس چیک پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

مسلح افراد نے کارروائی کے دوران انچارج گلاب سمیت 9 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔

رپورٹوں میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں سے 6 ہتھیار، فوجی ساز و سامان اور پانچ موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

اسی طرح سوراب کے علاقے گیدر سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، دو گاڑیوں پر مشتمل ایک پاکستانی فوجی قافلے پر مسلح افراد کی جانب سے بھاری حملہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ایک فوجی گاڑی کو شدید نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی پر سوار تمام اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

تاہم اس معلومات کی ابھی تک آزادانہ یا سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

ادھر دالبندین سے علاقائی ذرائع کے مطابق، کوئٹہ-تفتان تجارتی شاہراہ پر دالبندین کے علاقے چاہتر میں ایک بڑے پاکستانی فوجی قافلے کو شدید حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ لگنے سے ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جبکہ قافلے میں شامل دیگر گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ان تمام واقعات اور نقصانات کے حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تفصیلات یا مؤقف جاری نہیں کیا گیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article