پاکستانی فوج نے بلوچستان کے علاقے نوشکی میں خودکش بمبار سمیت7 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
یاد رہے کہ ضلع نوشکی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 31 جولائی تک کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور اس دوران آپریشن کے نام پر فوجی نوشکی بھر میں فوجی جارحیت جاری رہی، مختلف علاقوں غریب آباد اور گردونواح میں گھر گھر تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر نےاپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جہاں 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے اور خودکش بمبار بھی مارا گیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ فورسز نے 30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع نوشکی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور 7 مسلح افراد کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے دعوے میں مزید کہا کہ ہلاک افراد میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا تاہم کارروائی کے دوران مسلح افراد کی کمین گاہ کی نشان دہی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور انتہائی موثر کارروائی کرتے ہوئے تمام 7 مسلح افراد کو ہلاک کر دیا۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی کے دوران مسلح افراد کے اسلحے، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کا بڑا ذخیرہ بھی موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔
پاکستانی فوج نے گذشتہ روزبھی بلوچستان کے علاقوں پنجگور، بلیدہ اور دالبندین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نام پر مجموعی طور پر 10 مسلح افراد کومارنے جبکہ متعددکی زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔لیکن فوج کی جانب سے مبینہ مقابلوں میں مسلح افراد کو ہلاک کرنے کے دعوئوں کے بعد اب تک کسی بھی ہسپتال میں ان افراد کی لاشیں لانے یا شناخت کا عمل سامنے نہیں آ سکا۔
آئی ایس پی آر عام طور پر اپنی پریس ریلیز میں ایسے دعوے تو کرتی ہے، لیکن زمین پر ان کی حقیقت یا تو سامنے نہیں آتی یا پھر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ مارے جانے والے افراد دراصل پہلے سے جبری لاپتہ شہری تھے، جنہیں ماورائے عدالت قتل کر کے مقابلے کا رنگ دیا گیا۔
مبصرین کے مطابق، یہ بے بنیاد روش بلوچستان میں فوج کی شدید متاثرہ ساکھ کو سنبھالا دینے کی ایک ناکام کوشش دکھائی دیتی ہے۔