کچھی اور خاران میں مسلح افراد کا مسافر بسوں پرحملہ، ایک ڈرائیورہلاک، دو مسافر زخمی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے کچھی بولان اور خاران سے دو الگ الگ واقعات میںنامعلوم مسلح افرادنے شاہراہوں پر ناکہ بندی کرکے مسافر بسوں پر کی فائرنگ جس سے ایک ڈرائیور ہلاک اور دو مسافر زخمی ہوگئے۔

کچھی کے علاقے حاجی شہر کے قریب این 65 قومی شاہراہ پر گزشتہ شب صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ پر مسلح افرادکی فائرنگ کے نتیجے میں کوچ ڈرائیور شمود الحق ولد محمد علی سکنہ کوئٹہ موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ مسافر حضرت گل ولد نور گل سکنہ موسیٰ خیل زخمی ہوگئے ۔

مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد ڈاکو تھے اور یہ آئے روز اس طرح کی لوٹ مار کی وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔

واقعے کے بعد لاش اور زخمی کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال سبی منتقل کیا گیا جہاں زخمی کو طبی امداد فراہم کی گئی واقعے کے بعد ٹرانسپورٹرز و مسافروں نے احتجاج قومی شاہراہ بند کرکے ہر طرح کی ٹریفک معطل کردی اور پولیس کے خلاف امن کی بحالی میں ناکامی پر شدید نعرہ بازی کی ۔

بعد ازاں مقامی پولیس آفیسران سے مزاکرات کے بعد قومی شاہراہ بحال کردیا گیا ۔

واضح رہے کہ مذکورہ قومی شاہراہ این 65 پر خصوصاً بالاناڑی، حاجی شہر،کمبڑی پل اور بختیار اباد کے مقام پر ڈکیت گروہ آئے روز مسافروں ٹرانسپورٹرز کو لوٹنے رہتے ہیں ۔

پولیس قیام امن میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز اور مسافر ڈاکوئوں کے رحم و کرم پر ہیں۔

کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی مذکورہ روڈ پر ڈکیتی کی وارداتوں کے ڈکیت گینگ کے خلاف سخت کاروائی کا اعلان کیا تھا مگر وہ ایک محض دعویٰ ثابت ہوا تاہم آج دن تک مسافر اور ٹرانسپورٹرز اپنی جان جھوکوں میں ڈال کر اس روٹ پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب خاران کے علاقے گواش روڈ پر کپاس فیکٹری کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر مین روڈ پر ناکہ بندی کر کے اسلحے کے زور پر شہریوں سے نقدی اور قیمتی سامان لوٹ لیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران خاران شہر اور گرد و نواح میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث شہریوں اور تاجر برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے، جبکہ بار بار تھانوں کے ایس ایچ اوز کے تبادلوں کے باوجود امن و امان کی صورتحال میں بہتری نہیں آ سکی۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بلوچستان میںسیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسندمسلح تنظیموں کی ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کو کائونٹر کرنے کے لئے ریاستی اداروں کی جانب سے اپنے لے پالک ڈیتھ اسکواڈ کو متحرک کیا گیا ہے جو مسافر بسوں کو نشانہ بناکر لوٹ مار اور مسافر وں کا قتل عام کررہے ہیں ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article