سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کامقدمہ غیرقانونی قرار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی مقدمے کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ کے دلائل کے بعد، سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کو عدالت نے غیر قانونی، بد نیتی پر مبنی اور اسے کالعدم قرار دئے دیا۔

آج انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے ساجد ترین ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد، سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے (ایف آئی آر نمبر 83/2025) کو غیر قانونی قرار دئے دیا۔

اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آغا حسن بلوچ بھی موجودتھے ۔

یاد رہے کہ سردار اختر مینگل کے خلاف کچھ عرصہ قبل بی وائی سی قیادت کی رہائی کے لیے کوئٹہ میں جلسہ کرنے پر دہشت گردی کی ایف آئی آر/مقدمہ درج کی گئی تھی۔

عدالتی سماعت کے بعد بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے عدالتی فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ کٹھ پتلی حکومت نے ایسے جعلی مقدمات کے ذریعے سردار اختر جان کو اور پارٹی قیادت کو ڈرانے کی کوشش کی، لیکن ہم ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے یہ پالیسی اپنائی ہے کہ جو بھی ان کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے، وہ ان سب کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article