ضلع خاران میں تعلیمی پسماندگی اور پبلک لائبریریوں کی کمی پر بساک کا اظہار تشویش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) خاران زون نے ضلع میں تعلیمی پسماندگی اور پبلک لائبریریوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے نئی لائبریریوں کے قیام اور موجودہ لائبریریوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پورے ضلع خاران میں صرف دو پبلک لائبریریاں موجود ہیں، جن میں ایک خاران شہر جبکہ دوسری مسکانِ قلات میں واقع ہے، جو ضلع کی آبادی اور طلبہ کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ بیان کے مطابق جوژان، کلان، وڈھ، شمیر بور، ڈیری فارم اور دیگر دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو لائبریری تک پہنچنے کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جبکہ وہاں بھی بیٹھنے کی جگہ، پینے کے صاف پانی، واش روم، بجلی، پنکھوں اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔

بساک خاران زون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلیمی سہولیات کی یہ صورتحال طلبہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، اس لیے متعلقہ حکام کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

تنظیم نے مطالبہ کیا کہ جوژان، کلان، وڈھ، شمیر بور اور ڈیری فارم میں نئی پبلک لائبریریاں قائم کی جائیں، جبکہ خاران شہر اور مسکانِ قلات کی موجودہ لائبریریوں میں بیٹھنے کی مناسب جگہ، صاف پانی، واش روم، بجلی اور پنکھوں سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی طالبات کے لیے علیحدہ اور محفوظ نشست گاہ کا انتظام اور لائبریریوں کی تعمیر و بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن بھی جاری کی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی خاران زون آئندہ کے لائحہ عمل اور احتجاجی تحریک کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article