راولاکوٹ کریک ڈاؤن نے گوادر کی "راجی مچی” پر جبر کی تلخ یادیں تازہ کر دیں، سمی دین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنماء سمی دین بلوچ نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں پرامن مظاہرین پر فورسز کے حالیہ کریک ڈاؤن، براہِ راست فائرنگ اور سویلین ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ راولاکوٹ، کشمیر میں پرامن مظاہرین پر ہونے والا کریک ڈاؤن، نہتے شہریوں پر براہِ راست فائرنگ، شہادتیں اور گرفتاریاں دیکھ کر دو سال قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گوادر میں منعقد ہونے والی تاریخی راجی مچی کی تلخ یاد تازہ ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل آج ہی کے دن گوادر میں راجی مچی کو ہر قیمت پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ شاہراہیں بند کی گئیں، قافلوں کو راستے میں روکا گیا، بسوں پر فائرنگ کی گئی، نہتے مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں، درجنوں افراد زخمی ہوئے اور چار شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج راولاکوٹ میں ہونے والا جابرانہ کریک ڈاؤن بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت اختلافِ رائے اور پرامن مزاحمت کا جواب مسلسل تشدد، گولی اور گرفتاری سے دیا جاتا ہے۔ راولاکوٹ میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور اس جدوجہد میں شریک تمام لوگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

سمی دین بلوچ نے کہا کہ پرامن شہریوں کے خلاف طاقت کا اندھا استعمال کبھی ریاستوں کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ ان کے سیاسی اور اخلاقی جواز کو کمزور کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک میں ہر پرامن آواز کو بندوق کے زور پر خاموش کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟ مسائل کے سیاسی حل، مکالمے اور عوامی مطالبات کو سننے کے بجائے ریاست ہمیشہ جبر، تشدد اور طاقت کا راستہ کیوں اختیار کرتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جس جبر، تشدد اور کریک ڈاؤن کا سامنا ہمیں برسوں سے بلوچستان میں رہا ہے، آج وہی ریاست، جو کشمیر کو اپنی “شہ رگ” قرار دیتی ہے، وہاں بھی اپنے ہی نہتے شہریوں پر گولیاں چلا رہی ہے۔ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ کسی خطے کا نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا ہے جو ہر اختلافی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانا چاہتی ہے۔اگر یہی طاقت پر مبنی پالیسی اسی تسلسل کے ساتھ نافذ کی جاتی رہی تو اس کے نتائج صرف بلوچستان یا کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورا ملک اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اقتدار کے ایوان تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے آج بھی طاقت ہی کو ہر مسئلے کا حل سمجھ رہے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article