بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں بلیدہ، کراچی، اور پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ اور گشتی ٹیم پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 23 جولائی 2026 کو بلیدہ کے علاقے بزپیش کے مقام پر قابض فوج کی دو موٹر سائیکلوں پر مشتمل گشتی ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 21 جولائی 2026 کی رات کراچی اور حب چوکی کے درمیان ہمدرد یونیورسٹی کے قریب قائم کوسٹ گارڈ کے چوکی کو دستی بمب حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کوسٹ گارڈ کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک اور حملے میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 17 جولائی 2026 کی رات دس بجے کے قریب پسنی میں واقع کوسٹ گارڈ کی مرکزی کیمپ جس میں ریڈار سسٹم بھی قائم ہے، کو گرنیڈ لانچرز سے متعدد گولے داغ کر حملے کا نشانہ بنایا۔ تمام گولے مرکزی اہداف پر جاگرے جس سے دشمن کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ رات گئے جب دشمن کے فوجی اہلکار اور ٹیکنیشن مرکزی کیمپ میں ریڈار سسٹم اور دوسرے نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف تھے تو ایک بار پھر ہمارے سرمچاروں نے حکمت عملی کے ذریعے کیمپ پر گرنیڈ لانچرز سے حملہ کردیا جس سے کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں اور ریڈار سسٹم کی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ بی ایل ایف بلیدہ، کراچی اور پسنی میں کوسٹ گارڈ پر ہونے والے حملوں کی زمہ داری قبول کرتی ہے۔