نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر پروگراموں کا انعقاد کیا گیا،شیر محمد بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید اعظم کی چودھویں برسی کے مناسبت سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ، برطانیہ کے شہر لندن، جنوبی کوریا کے شہر بوسان، گریس کے دارلحکومت ایتنز میں سیمیناروں کا انعقاد کیا گیا اور شہدائے تراتانی کو ان کی غیر معمول اور تاریخی قربانی پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ 

ترجمان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے سیمینار میں بی آر پی کے قائد نواب براہمدغ بگٹی، پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن پاکستان قومی اسمبلی محسن داوڑ، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر، عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رہنما و پشتون دانشور جناب افراسیاب خٹک، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر محترم حسین حقانی، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے محترمہ  گلالائی اسماعیل، معروف صحافی طہہ صدیقی، معروف بلاگر وقاص احمد گوریا، ڈاکٹر پرویز ہودبھائی اور امریکہ میں مقیم معروف کالم نگار ڈاکٹر محمد تقی نے شرکت کی اور ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے خدمات کو سراہا۔ 

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ لندن کے سمینار میں بی این ایم کے رہنما حمل حیدر سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے شرکت کی جبکہ گریس سیمینار میں پشتون اور بلوچ کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور بلوچ قوم کے عظیم رہنما کو سرخ سلام پیش کیا۔ 

جنوبی کوریاں میں منعقد تقریب میں ہر مقطب فکر کے افراد نے شرکت کر کے ڈاڈائے قوم کے گراں قدر خدمات اور ان کی بلوچستان کیلئے عظیم قربانی کو قوم کیلئے مشعل راہ قرار دیا۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ نواب بگٹی ایک قد آور سیاسی اور عوامی رہنما تھے وہ تاریخ اور عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہینگے۔ 

پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ نواب بگٹی کو شہید کر کے مظلوم اقوام کو پیغام دیا گیا جو لوگ اپنے حق کیلئے کھڑے ہونگے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا جائیگا۔ 

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے سیمنار سے خظاب کرتے ہوئے کہا ہے ہمیں آئی ایس پی آر کے بیانات تک محدود نہیں رہنا چائیے بلکہ بلوچستان میں آزاد بین القوامی میڈیا اور این جو اوز کو فوری طور پر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ جان سکے کہ بلوچستان میں ہو کیا رہا ہے 

صحافی طہا صدیقی کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور بلوچ کے معملات کو بیرون دنیا سے ہمیشہ چھپائے رکھا گیا۔  لاپتہ افراد کا مسلئہ اور منشیات کی اسمگلنگ ایسے مسائل ہیں جو کبھی بھی مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں نہیں آتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پیچھے بھی ریاست کے ادارے اور ان کے پالے ہوئے عسکریت پسند گروہ ہیں۔

بی آر پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شہید نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی پوری زندگی پرامن طریقے سے قومی حقوق کی جنگ لڑی اور ہر زریعے کو برویکار لایا مگر طاقت کے نشے میں چور اور کرپٹ فوج نے جھبیس اگست کو بزرگ بلوچ رہنما کو تیس ساتھیوں سمیت شہید کردیا مگر ڈاڈا کی نظریہ اس فوج کو ہر روز بلوچستان کے کونے کونے میں شکست سے دوچار کررہی ہے کیونکہ نواب اکبر بگٹی صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک سوچ اور نظریہ ہے جسے ختم کرنا ممکن نہیں۔ 

شیر محمد بگٹی کا کہنا تھا کہ شہید اعظم نواب اکبر بگٹی اور ہزاروں شہدا کی دی گئی قربانیاں کبھی رائیگا نہیں جائیگی ان کے خوب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے آج ہر باشعور نوجوان کمر بستہ ہے اور وہ اپنے حقوق کے حوالے سے شعور رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کیلئے مختلف طریقوں سے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں جس کی تازہ مثال راجن پور میں پانچ بلوچ نوجوانوں اور حیات بلوچ کے شہادت جیسے واقعات کی شکل میں موجود ہیں۔

بی آر پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ریاست ایک شخص کو تو شہید کرسکتی ہے مگر لاکھوں نوجوان ان ہزاروں شہدا کے نظریے سے جوڑ رہے ہیں۔ 

Share This Article
Leave a Comment