گزشتہ دنوں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے والے بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ (بی ایس ایف) کے مرکزی چیئرمین فضل بلوچ سمیت تین نوجوان عقوبت خانوں سے رہا ہو کر بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
ان نوجوانوں کی رہائی کی تصدیق بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے باقاعدہ دستاویزی پوسٹرز جاری کرتے ہوئے کی ہے، جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بھی اپنے آفیشل میڈیا بیان میں اپنے مرکزی چیئرمین کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے اس پورے عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
خفیہ اداروں اور فوج کے عقوبت خانوں سے رہا ہونے والے پہلے نوجوان کی شناخت فضل بلوچ کے نام سے ہوئی ہے، جو بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ (بی ایس ایف) کے مرکزی اور قائم مقام چیئرمین ہیں۔ آواران سے تعلق رکھنے والے دوست محمد کے بیٹے فضل بلوچ کو فوج نے حب چوکی کے مقام سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جو اپنے کزن کے ہمراہ گزشتہ 5 دنوں کی سخت حراست کے بعد بالآخر 21 جولائی 2026 کو حب چوکی ہی سے رہا ہو کر بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے۔
عقوبت خانوں سے رہا ہونے والے دوسرے نوجوان صدام حسین ولد نبی بخش ہیں، جن کا تعلق بھی آواران ہی سے ہے۔ صدام حسین کو فوج اور خفیہ اداروں نے 11 جولائی 2026 کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا، جو تقریباً 10 روز تک لاپتہ رہنے کے بعد 21 جولائی 2026 کو حب چوکی کے مقام سے رہا ہو کر اپنے پیاروں سے جا ملے۔
رہائی پانے والے تیسرے نوجوان کی شناخت محمد رحیم ولد عبد الرشید کے نام سے ہوئی ہے، جو کوئٹہ میں امین آباد، بروری روڈ کے رہائشی ہیں۔ محمد رحیم کو فوج نے 2 جون 2026 کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جو تقریباً پونے دو ماہ تک خفیہ حراست اور شدید ذہنی و جسمانی اذیت برداشت کرنے کے بعد بالآخر 21 جولائی 2026 کو کوئٹہ سے ہی رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے۔
نوجوانوں اور اپنے قائد کی بازیابی پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین فضل بلوچ کو 17 جولائی کی شب جبراً لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 21 جولائی کی رات بازیاب کیا گیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ان کی بازیابی یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم بی ایس ایف اس غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کسی شہری کو بغیر کسی قانونی جواز کے کئی روز تک جبری حراست میں رکھنا، اور انہیں اہلِ خانہ و رشتہ داروں سے دور رکھنا قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تنظیم کے قائم مقام چیئرمین فضل بلوچ کو پانچ دن اور پانچ راتیں لاپتہ کرنے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ ماورائے عدالت بلوچ چادر و چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے ایک پرامن سیاسی رہنما کو بغیر کسی جرم کے جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا ملکی آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
بی ایس ایف نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ پرامن سیاسی و طلبہ قیادت کو جبری گمشدگیوں، تشدد اور خوف کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ اس قسم کی پالیسیاں نہ صرف سیاسی آزادیوں پر حملہ ہیں بلکہ بلوچستان میں بے چینی اور عدم اعتماد کو مزید گہرا کرتی ہیں۔
تنظیم نے ریاست سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے قانون اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور بلوچستان میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے جبر کے بجائے آئینی, جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔