بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے علاقے یارو پٹ میں آج صبح بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی جس کی شناخت احمد علی ولد علی خان بگٹی کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر اٹھارہ برس بتائی جارہی ہے۔
واقعہ کے بعد لواحقین نے لاش کے ہمرہ سوئی کے چائنہ چوک پر دھرنا دیا ہوا ہے اور سوئی اور کشمور کے درمیان جانے والے مرکزہ شاہرہ کو بند کردیا ہے۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے ان کے بچے کو شاہنواز چاکرانی بگٹی کے ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں نے قتل کردیا ہے۔
واضع رہے کہ شاہ نواز چاکرانی بگٹی نامی شخص ڈیتھ سکواڈ کا سرغنہ ہے جو سوئی کے علاقوں لنجو اور سغاری میں سرگرم ہیں جہاں زمینوں پر قبضے لوٹ مار اور ڈیرہ بگٹی کو سندھ سے ملانے والے مرکزی شاہرہ پر چوری اور ڈکیتیوں میں بھی یہ گروہ سرگرم ہے۔
جبکہ متاثرہ خاندان بھی حکومتی حمایت یافتہ ہیں جن کے خاندان کے لوگ انتظامیہ سمیت کئی عہدے پر فائر ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے ڈیرہ بگٹی اور خاص طور پر سوئی میں قبائل کے آپسی دشمنیوں کو ریاست کی جانب سے مسلسل ہوا دیا جارہا ہے۔ آج ہونے والے دھماے میں ملوث افراد اور دھماکے کا نشانہ بننے والے دونوں فریقوں کو ریاستی ادارے مختلف ذرائع سے مدد فراہم کررہی ہیں۔