بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے چیئرمین فضل بلوچ کی جبری گمشدگی پر تنظیم کو تشویش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے بلوچ سیاسی کارکنان، طلباء اور نوجوانوں کے خلاف ماورائے عدالت اقدامات اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اب ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ پرامن سیاسی آوازوں کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے اور ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات ملکی قوانین اور عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

مرکزی ترجمان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے قائم مقام چیئرمین فضل بلوچ کو گزشتہ رات حب چوکی میں واقع ان کی رہائش گاہ میں غیر قانونی طور پر گھس کر گھر کی چادر و چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے مبینہ طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔ فضل بلوچ ولد دوست محمد کا تعلق آواران سے ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایک استاد ہیں، جو معاشرے میں تعلیم، علم و ادب اور شعور کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان ہی ملک و قوم کا سرمایہ اور امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، بیان میں کہا گیا کہ ایک کتاب دوست، قلم کار، استاد اور پرامن نظریات رکھنے والے نوجوان کی جبری گمشدگی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مقتدر حلقے بلوچستان کے باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سیاسی و فکری تربیت سے خوفزدہ ہیں اور اسے اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی تنظیم کے سابقہ چیئرمین کو 5 ماہ تک غیر آئینی حراست میں رکھنے کے بعد بازیاب کیا گیا تھا، جو سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔

مرکزی ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا حقیقی اثاثہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں بغیر کسی قانونی کارروائی کے زندانوں کی نذر کرنا محض ایک فرد کو خاموش کرنا نہیں، بلکہ پوری بلوچ قوم کے مستقبل پر وار کرنے کے مترادف ہے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔

بیان کے آخر میں ترجمان نے حکومتِ وقت، اعلیٰ عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ملکی آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے قائم مقام چیئرمین فضل بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر کسی فرد پر کوئی جرم یا الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کر کے منصفانہ ٹرائل کا موقع دیا جائے، بصورتِ دیگر تنظیم اپنے اراکین کی بازیابی اور حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرنے کا حق رکھتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article