بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے متصل علاقے شعبا ن میں پاکستانی فوج کی جارحیت جاری ہے ، مزید 4 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
عسکری حکام کے مطابق پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مسلح افراد کے خلاف آپریشن شعبان جاری ہے۔
عسکری ذرائع کے دعوے کے مطابق فورسز نے آپریشن کے دوران مزید 4 مسلح افراد کو ہلاک کردیا ہے، جس کے بعد آپریشن شعبان میں ہلاکتوں کی تعداد 71 ہوگئی ہے جبکہ 5 جولائی سے اب تک 109مسلح افراد مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی میڈیا یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ہنہ اڑک کے گاؤں ببری کے دورے کے موقع پر کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مسلح افراد کےخلاف شعبان میں آپریشن کے نام سے جاری فوجی جارحیت کا جائزہ لیا اوراس میں حصہ لینے والے پولیس فورس کے جوانوں سے ملاقات کی۔
یاد رہے کہ زیارت واقعات میں ہلاک پولیس اہل کاروں کے لواحقین کا دھرنے کوئٹہ اور زیارت میں جاری ہیں۔
حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے دو دور ہونے کے باوجود ڈیڈ لاک برقرار ہے، مظاہرین کی جانب سے زیارت واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا لیکن حکومتی وفد کی یقین دہانی کے باوجود مظاہرین نے دھرنا ختم نہیں کیا۔
دھرنے کے قریب کنٹینر میں 8 پولیس اہلکاروں کی میتیں رکھی ہوئی ہیں، دیگر پولیس اہلکاروں کی تدفین زیارت اور سنجاوی کے علاقوں میں کر دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ 7 جولائی کو زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد کے حملے میں 30 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ اس فوجی جارحیت کے دوران پاکستانی فوج نے اب تک 71 مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مارے جانے والے افراد کی شناخت میڈیا کے سامنے ظاہر نہیں کی گئی۔
ماضی میں بھی اس قسم کے آپریشنز میں ہلاک شدگان کی شناخت کو جان بوجھ کر مخفی رکھا جاتا رہا ہے، تاکہ بعد میں اعداد و شمار کو اپنی مرضی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ بعد ازاں، ماضی کے ایسے کئی واقعات میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ جن افراد کو مسلح افراد بتا کر ہلاک کیا گیا، وہ دراصل پہلے سے ہی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد تھے۔