ریاستی اداروں کی نظر میں بلوچستان کے عوام کی کوئی انسانی حیثیت نہیں، اختر مینگل

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کے حالات واقعی ٹھیک ہیں تو لوگ دھرنوں پر کیوں بیٹھے ہیں،جس ریاست میں سچ بولنا گناہ اور حق مانگنا جرم بن جائے، وہ ریاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔

یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ میں زیارت میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کوئٹہ میں ہنہ اوڑک واقعہ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے جاری دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا، واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اور احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ زیارت کے حالیہ سانحے پر ہونے والا احتجاج کسی ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ یہ سلسلہ پاکستان کے قیام سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست نے بلوچستان کے عوام کے خون پر اپنی معیشت قائم کی، جبکہ بلوچستان کے وسائل، تیل، گیس اور معدنیات سے فائدہ اٹھایا گیا، مگر یہاں آباد بلوچ اور پشتون عوام کو نظرانداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی نظر میں بلوچستان کے عوام کی کوئی انسانی حیثیت نہیں، ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جاتا ہے اور بعد ازاں فراموش کر دیا جاتا ہے۔

اختر مینگل نے پشتون عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف نسل کشی ہو رہی تھی تو بلوچ عوام کو امید تھی کہ پشتون قیادت ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ رہنماؤں نے اس وقت بھی خبردار کیا تھا کہ جو ظلم بلوچوں پر ڈھایا جا رہا ہے، وہ ایک دن پشتونوں تک بھی پہنچے گا، اور آج وہی حالات پشتونوں کو درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پشتون عوام جس طرح تشدد اور قتل و غارت کا سامنا کر رہے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے اور آخر تک ان کا ساتھ دے گی۔

بی این پی سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچوں کو کچلنے کے لیے ریاست نے مختلف علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈ قائم کیے، جنہوں نے مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکیں، گھروں میں گھس کر کارروائیاں کیں اور لوگوں کو اغوا کیا، جبکہ کسی ریاستی ادارے نے انہیں نہیں روکا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان گروہوں کو اس حد تک اختیارات دیے گئے کہ وہ لوگوں کے گھروں سے خواتین کو بھی اٹھا کر لے جاتے تھے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی تھی۔انہوں نے 2016 کے سول ہسپتال کوئٹہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے چمن سے پشین تک مختلف علاقوں کا دورہ کرکے عوام سے اتحاد کی اپیل کی تھی، کیونکہ اگر عوام متحد نہ ہوئے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

اختر مینگل نے کہا کہ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لاشیں کنٹینروں میں رکھی جا رہی ہیں، جبکہ بلوچستان میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہیں اپنے پیاروں کی لاشیں تک نصیب نہیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ان افراد میں شامل ہیں جو گزشتہ 45 برس سے اپنے بھائی کی لاش نہیں دیکھ سکے اور نہ ہی انہیں آخری کندھا دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے، اور اگر کسی ریاست میں حق مانگنا اور سچ بولنا جرم بن جائے تو ایسی ریاستیں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں ہلاکو اور ہٹلر جیسے حکمرانوں کی ریاستیں بھی باقی نہیں رہیں۔

اختر مینگل نے ہنہ آوڑک واقعہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہے تو پھر حکومت عدالتی تحقیقات سے خوفزدہ کیوں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچستان میں کیے گئے تجربات، جن میں لیویز کو ختم کرکے پولیس میں ضم کرنا اور مختلف سیکیورٹی پالیسیاں شامل ہیں، کی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے۔

انہوں نے دھرنے کی قائم کردہ کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج ختم کرانے یا مطالبات سے دستبردار کرانے کی کوششیں کی جائیں گی، تاہم شرکاء کو اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔

صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ دنیا میں ایک شخص کی ہلاکت پر بھی وزراء استعفے دیتے ہیں، مگر بلوچستان میں متعدد جانوں کے ضیاع کے باوجود حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندے ہوتے تو وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دے کر متاثرین کے ساتھ دھرنے میں شریک ہوتے، تاہم موجودہ حکمران عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔

خطاب کے اختتام پر اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اسلام آباد میں بھی ہنہ آوڑک، زیارت اور دیگر واقعات کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے، اور دھرنے کے شرکاء آئندہ جس بھی احتجاجی لائحہ عمل، شٹر ڈاؤن، پہیہ جام یا دیگر احتجاجی اقدامات کا فیصلہ کریں گے، ان کی جماعت ان تمام فیصلوں میں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article