بلوچستان کے ضلع مستونگ کی تحصیل کھڈکوچہ میں نامعلوم افراد نے ماشاءاللہ ہوٹل کے قریب قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں پل کا ایک حصہ جزوی طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
اس دھماکے کے بعد قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب، گذشتہ روز جمعہ کو ضلع خضدار کے تحصیل زہری پر بلوچ آزادی پسندوں نے کنٹرول سنبھال لیا تھا اور دو پولیس تھانوں سمیت چوکیوں کو تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق، انہوں نے کئی پولیس چوکیوں کے ساتھ ساتھ دو پولیس اسٹیشنوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
مزید رپورٹوں میں بتایا گیا کہ خضدار سے پہنچنے والی پاکستانی فوج کی بھاری فورسز کیساتھ جھڑپیں جاری رہیں، جو بھاری کمک کے ساتھ وہاں پہنچی تھیں۔ اس کارروائی کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز جمعرات کو چاغی میں مسلح افراد نے شہر کا کنٹرول سنبھال کر پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرکے اسلحات و دیگر سامان قبضے میں لئے اور سرکاری عمارات و تنصیابت پر قبضہ کرکے متعدد کو نذر آتش کیا تھا۔
بعد ازاں اس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ پانچ گھنٹوں سے زائد شہر ان کے کنٹرول میں ہے اور پاکستانی فوج کو پیش قدمی کے دوران شدید مزاحمت کے بعد لوٹنا پڑا۔