کوئٹہ: مغوی افراد کی بازیابی کے بعد ہنہ اوڑک دھرنا ختم، زیارت واقعہ کے خلاف احتجاج بدستور جاری

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں گذشتہ اتوار سے جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور کٹھ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے خلاف شروع کیے گئے اس دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے جاری دھرنے کے تین اہم مطالبات تھے: علاقے کو مسلح افراد سے پاک کرنا، مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی۔

گذشتہ شب اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی جب اغوا کیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا گیا۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ تمام مغوی افراد بازیاب کر لیے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق مغویوں کی رہائی میں قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور انھوں نے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرتی رہی جس میں مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں اور وہ خود کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

مغوی افراد کی رہائی کے بعد سرفراز بگٹی رات گئے دھرنے کے مقام پر پہنچے اور متاثرہ خاندانوں اور دھرنا کمیٹی کے ارکان سے تفصیلی بات چیت کی۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد کمیٹی نے وزیرِ اعلیٰ کی درخواست پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو ممکنہ داد رسی فراہم کی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف بگٹی وہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے پابند ہیں۔

سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہلِ خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اور متاثرہ بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔

دوسری جانب، اگرچہ ہنہ اوڑک کے واقعے کے خلاف دھرنا ختم ہو گیا ہے، تاہم کوئلہ پھاٹک کے مقام پر زیارت کے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج بدستور جاری ہے۔

یہ دھرنا جمعرات کے روز بعض مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ شروع کیا گیا تھا اور تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔

یاد رہے کہ مقتدرہ حلقوں سے جڑے سوشل میڈیا کائونٹس ہنہ اوڑک معاملہ کو ٹی ٹی پی سے جوڑنے رہے ہیں تاہم بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کے پیچھے فوج ملوث ہے جس کا مقصد ہنہ اوڑک اور گردونواح کے اراضیات پر قبضہ کیا جاسکے جو ٹی ٹی پی کا نام استعمال کر کے ایک ماحول بنا رہی رہے۔

دوسری جانب ٹی ٹی پی نے اب تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حکومتی حلقے اسے ٹی ٹی پی سے جوڑ رہے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article