شہید چراگ جان | لطیف بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
15 Min Read

بلوچ اور بلوچستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ خطہ زیادہ تر جنگوں میں گزرا ہے۔ بلوچستان پر قبضہ گیروں کی تسلط کی یہ روش ہزاروں سال سے جاری ہے، اور قبضہ گیروں کے خلاف جنگ بھی مسلسل جاری ہے۔ بلوچستان کی آزادی کے لیے ہزاروں بلوچ اپنے سروں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ مادرِ وطن کے ہزاروں لعل دشمن کے خلاف میدانِ جنگ میں لڑ رہے ہیں۔ ہزاروں سپوت، جن میں مرد، عورتیں، جوان، بزرگ اور بچے شامل ہیں، ریاستی زندانوں میں قید ہیں۔ ایک پوری نسل جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ماؤں نے اپنے لختِ جگر وطن پر فدا کیے ہیں۔ مائیں بھی عجب ہیں، جو اپنے لختِ جگر کو وطن پر قربان کرنے کے لیے مسلح محاذ پر بھیجتی ہیں۔

انقلابِ روس میں ایک مزدور پاول ولاسوف، اس کی ماں، اس کے دوستوں اور کچھ خواتین کے گرد کہانی گھومتی ہے۔ ماں اپنے بیٹے اور اس کے مقصد، یعنی انقلاب، کے لیے سختیاں برداشت کرتی ہے۔ جس طرح ریحان جان کی ماں اپنے لختِ جگر کو خود قربان ہونے کے لیے بھیجتی ہے۔ سرخ سلام ان عظیم ماؤں کو جو ایسی اولادیں جنم دیتی ہیں، اور ان میں چراگ جان کی اماں بھی شامل ہیں، جنہوں نے چراگ کو پیدا کیا اور وطن پر قربان کر دیا۔ قربان ان شہیدوں کو جو اپنی دھرتی پر فدا ہیں، اپنی جانیں وطن پر قربان کر دیتے ہیں۔

آج ان میں سے ایک سرمچار کا ذکر کرتے ہیں، جو اپنے منفرد کردار کی وجہ سے الگ تھا۔ ایک ایسا انسان جس نے نہ خواہشات کی پروا کی، حالانکہ انسانی خواہشات لامحدود ہوتی ہیں۔ جب انسان اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی عیش و آرام سے گزارے اور اپنوں کے ساتھ زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہو، لیکن قومِ بلوچ اپنی زندگی آزادی کے ساتھ گزارنے سے قاصر ہے، کیونکہ جب کسی قوم کی سرزمین پر کوئی قبضہ گیر قدم جماتا ہے تو اس کے ساتھ وہاں بسنے والے افراد کی خوشیاں غموں میں بدل جاتی ہیں۔ لوگ غلامی کے اندھیروں میں چلے جاتے ہیں، قوم کے افراد کی ہنستی مسکراتی زندگی عذاب بن کر رہ جاتی ہے، اور یہ عذاب غلامی کی لعنت کا ہے جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

یہ غلامی مظلوم اقوام کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا یہ عذاب قدرت کی طرف سے مظلوموں کے لیے ایک امتحان ہے یا سامراجی طاقتوں کا گٹھ جوڑ، جس نے مظلوموں کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ اس غلامی سے نجات پانے کے لیے ہر وقت مادرِ وطن کے دفاع میں ماؤں کے لالوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بلوچ قوم میں قربانیوں کی ایک طویل داستان موجود ہے۔ سفید ریش میر محراب خان سے لے کر اکبر خان بگٹی تک یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔ تحریکوں کی کامیابی شہداء کی قربانیوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی تحریک شہداء کی قربانیوں کے بغیر پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچی۔ شہادت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے کوئی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اپنے خون سے جدوجہد کو فتح سے ہمکنار کرتا ہے۔ اسی طرح بلوچ قومی آزادی کی تحریک بھی شہداء کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ بلوچستان میں بھی شہداء نے اپنی سرزمین کے لیے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں۔

شہدائے اپریل، شہید واجہ غلام محمد سے لے کر شہید سلمان عرف چراگ تک ایک طویل داستان ہے، جو بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے لیے جانوں کی قربانیاں دے کر تاریخ میں امر ہو گئے۔ میرا موضوع ایک ایسے نوجوان پر ہے جس نے رسمی تعلیم تو حاصل نہیں کی، لیکن اپنے فکر و شعور سے بہت کچھ سیکھا اور ہمیں بھی سکھایا۔ ایسے ہی نوجوانوں کی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔

شہید سلمان عرف چراگ ابنِ وحیدہ زامران کے علاقے کومب سر میں پیدا ہوئے۔ پھر آپ کے خاندان نے کوتان زامران کی طرف نقل مکانی کی، لیکن جب 2013ء میں زلزلہ آیا تو اس کے بعد فوج نے زبردستی علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں کو مجبور کرکے علاقوں سے باہر نکالا جا رہا تھا، تو زامران میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران چراگ جان اپنے خاندان کے ہمراہ کلاہو منتقل ہوئے۔ زامران کے خوبصورت پہاڑ، جنگلات کسی جنت سے کم نہیں، اور ان پہاڑوں کی مہک نے آپ کو زامران کے پہاڑوں کا عاشق بنا دیا۔

آپ بچپن میں اسکول گئے، لیکن درمیان میں اسکول کو خیر باد کہہ کر اپنے مال و مویشیوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئے، کیونکہ بلوچستان میں بیشتر افراد کا ذریعۂ معاش بھیڑ بکریاں پالنا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب بلوچستان کے پہاڑوں اور علاقوں میں آزادی پسندوں کا کنٹرول تھا، اس لیے اکثر آپ کی ملاقات بلوچ سرمچاروں سے ہوتی تھی۔ شہید نور سلام نور عرف استال سے آپ نے مجالس کیں، جس کی وجہ سے آپ کے اندر قومی شعور نے جنم لیا۔ مزید دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور شہید چراگ جان سیکھتے رہے۔ بطور دوزواہ، سرمچاروں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرتے کرتے 2023ء میں چراگ جان نے بی این اے میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد بلوچستان کی سب سے بڑی مسلح تنظیم بی ایل ایف میں شامل ہو گئے اور اپنی شہادت تک بی ایل ایف سے منسلک رہے۔

جنگِ آزادی اور انقلاب کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد جب کوئی انسان اس جنگ اور انقلاب کے تمام فطری اصولوں پر کاربند رہتا ہے تو وہ کامل بن جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں آئے اور چلے گئے۔ کچھ کے حوصلے پست ہوئے اور وہ غدار بن گئے، لیکن ایسے بھی شیدائیٔ وطن ہیں جنہوں نے سب کچھ قربان کر کے اپنا آج قوم کے کل پر نچھاور کر دیا۔ چراگ جان بھی انہی میں سے تھے۔

اس وقت آپ کم عمر تھے، لیکن اپنے گھر کے بڑے تھے۔ آپ کو اپنی والدہ سے بے حد عقیدت تھی، اس لیے آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر میں شہید ہو گیا تو مجھے میری ماں کے نام سے پہچان دی جائے۔ ایسے بہت سے شہداء ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر ہم شہید ہوں تو ہمیں والدہ کے نام سے یاد کیا جائے۔ اس کی ایک مثال شہید در بی بی ہیں۔

میری پہلی ملاقات چراگ جان سے 2025ء میں تنظیمی کیمپ میں ہوئی۔ دیکھنے میں خاموش طبع، شرمیلا، لیکن شعور اور جنگی صلاحیتوں کے امتزاج سے ایک بہادر سرمچار، جو صرف اپنے وطن اور اپنی تنظیم کی مضبوطی کو اہمیت دیتا تھا۔ چیزوں کو باریکی سے دیکھنا اس کی مزاج کا حصہ تھا۔

کچھ دیر گفتگو ہوئی اور اگلے دن وہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ پھر مجھے چراگ جان کے ساتھ سفر کرنے کے متعدد مواقع ملے۔ ان کے ساتھ سفر کرنا میرے لیے خوشی کا باعث تھا۔
آپ کے اندر دوستوں کے لیے بے حد محبت تھی۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ رات کے سفر میں ایک دوست چل نہیں سکا تو آپ نے اس کی بندوق اور اس کا پورا سامان خود اٹھا لیا۔ یہ آپ کی مہر، ایثار اور سنگتی کی خداداد صلاحیتوں میں سے ایک تھی۔ آپ پہاڑوں کے عاشق تھے۔ پہاڑوں کے بارے میں آپ کو گہرا علم تھا۔ آپ جانتے تھے کہ دشمن کہاں ہے اور راستہ کہاں۔ آپ جنگی ہنر سے بھی واقف تھے اور آپ کی جنگی مہارت نمایاں تھی۔ براس کے گشت میں بھی آپ نے اہم کارنامے انجام دیے۔

آپ دوستوں کے لیے مہربان تھے، پروپیگنڈے کے مخالف تھے۔ تنظیمی دائروں میں آپ مسائل کو تحمل اور سمجھ بوجھ کے ذریعے حل کرتے تھے۔ آپ کسی سے شکوہ یا شکایت نہیں کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ کہتے تھے: "اپنے اندر برداشت پیدا کرو، اور سرمچار بننے کے لیے سرمچار والے اوصاف اختیار کرو۔”

آپ ایک اسنائپر شوٹر، مایہ ناز نشانہ باز سرمچار تھے۔ آپ کہتے تھے کہ ایک اسنائپر کے پاس اچھی بینائی ہونی چاہیے تاکہ وہ ہدف پر نشانہ لگانے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرے۔ عقلی مہارت یہ ہے کہ کہاں، کب اور کیسے حملہ کرنا ہے، اور اس حملے کے کیا اثرات رونما ہوں گے۔ اپنے ہتھیار کو سمجھنے کی صلاحیت اور اس سے نکلنے والی گولی دشمن کو کیا نقصان پہنچائے گی، یہ ایک اسنائپر شوٹر کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ چراگ جان میں یہ تمام صلاحیتیں موجود تھیں۔

آپ بی ایل ایف کی ٹیکنیکل ٹیم کے ایک ممبر تھے۔ آپ کی انتھک دن رات کی محنت نے آپ کو اس ٹیم میں جگہ دلوائی۔ آپ جنگی قیادت سے لے کر جنگ کے ہر ہنر سے واقف تھے۔ آپ نے کم وقت میں کلبر، مزن بند، زامران، بلیدہ اور پروم میں اپنی کارکردگی کے جوہر دکھائے۔ آپ نے کم عمری میں تنظیم میں اپنی جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

شہید چراگ جان ایک چرواہے تھے۔ بلوچ قوم میں چرواہے کا پیشہ مقدس سمجھا جاتا ہے۔ انہیں اپنے پہاڑوں سے بے حد محبت تھی۔ اس چرواہے نے اپنے کردار میں ثابت قدمی اور محنت سے اپنے جوہر دکھائے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ میں ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم حاصل نہ کی جائے یا علم سے دور رہا جائے۔ علم ضرور حاصل کرو، دانش اور شعور بھی ضروری ہیں، لیکن دشمن کی طرف سے دیا گیا کاغذی پرچہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ قوم کو علم، دانش اور شعور کی ضرورت ہے۔

چراگ جان اسی قوم کے علم، شعور اور استقامت کی پہچان تھے۔ چراگ جان نے چھوٹی سی عمر میں وہ سب کچھ کر دکھایا جو بہت کم لوگ کر پاتے ہیں۔ وطن کے عشق میں سرمچار بن کر انہوں نے ثابت کیا کہ سوچ اور عمر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شہید چراگ جان ایک مکمل سرمچار تھے، ایسے سرمچار جو تحریک کے مستقبل مزاج ساتھی تھے۔ بچپن سے اپنی شہادت تک انقلابی اصولوں پر قائم رہے۔ خاموش رہنا، ہر وقت اپنے کام سے کام رکھنا، تنظیم کا پابند رہنا اور تنظیمی پروگراموں کو بخوبی سرانجام دینا ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ آپ کی قابلیت کی بنیاد پر آپ کو لیفٹیننٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

زندگی میں کچھ ایسے دوست ہوتے ہیں جن کے بچھڑنے کا خیال بھی آئے تو جسم لرز اٹھتا ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو روح میں بس جاتے ہیں۔ ہر مصیبت، غم اور تکلیف میں ہمیشہ حوصلہ بنتے ہیں، ہر سختی میں امید بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ ہمیشہ قوموں کے لیے ایک جامع مثال ہوتے ہیں۔

شہید چراگ جان، شہید اکرام عرف حمید کے ساتھ زامران میں شہید ہوئے۔ آج ان دوستوں کی جدوجہد اور شہادت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اور اسی راہ میں ہمارے لیے حیاتِ تابندہ ہے۔

بقول ڈاکٹر اللہ نذر، بلوچ ایک تاریخی مرحلے سے گزر رہا ہے، اور دشمن کے ساتھ یہ ہماری آخری لڑائی ہے، جس میں حصہ ڈالنے والے اور رکاوٹ بننے والے، دونوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

جس نے بھی اپنی زمین کے لیے جان و مال قربان کیا، وہ تاریخ کے صفحات میں امر ہے، اور ہمارا چراگ جان بھی بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ امر رہے گا۔ بلوچستان میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے لیے ہزاروں جدوجہد کاروں نے سروں پر کفن باندھ کر میدان میں قدم رکھا۔ انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ یہی وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ ہم جتنی دیر کریں گے، غلامی اتنی ہی طول پکڑے گی۔ ہم جتنی کاہلی اور سستی کا مظاہرہ کریں گے، قوم کے رنج و غم میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔

٭٭٭

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article