بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) نے ضلع گوادر کی ساحلی تحصیل جیونی کے گاؤں پانوان اور اس کے گردونواح میں پاکستانی فورسز کی حالیہ بربریت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بین الاقوامی برادری سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
بی این ایم کے مطابق، گزشتہ دو روز سے پاکستانی فوج پانوان اور اس کے قریبی علاقوں میں گھروں پر مسلسل چھاپے مار رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی مکانات کو مسمار کر دیا گیا ہے اور 60 سے زائد افراد کو جبری طور پر لاپتہ (Enforced Disappearance) کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے 5 متاثرین کو دورانِ حراست قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئی ہیں۔ یہ صورتحال مجموعی طور پر بلوچستان کی عکاسی کرتی ہے، جسے ایک ‘میڈیا بلیک ہول’ بنا دیا گیا ہے۔ بلوچستان سے خبریں شاذ و نادر ہی بین الاقوامی پریس تک پہنچ پاتی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی ریاست کو مکمل استثنیٰ کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستانی فوج کی جانب سے پانوان پر بار بار حملے کیے گئے ہیں اور اس علاقے کے متعدد نوجوان برسوں سے لاپتہ ہیں۔ ساحل کے ساتھ پاکستانی فوج کے اسمگلنگ کے مفادات ان کارروائیوں کا ایک بڑا محرک ہیں۔ اگرچہ ریاست ان اقدامات کو بلوچ آزادی کی تحریک کے جواب کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن یہ صرف ایک رخ ہے؛ بنیادی طور پر یہ پاکستانی فوج کے لیے ایک آسان بہانہ ہے۔مثال کے طور پر، بلوچ سرمچاروں کی جانب سے پاکستانی فوج پر حملے کے فوراً بعد ایک مقامی تاجر کا گھر مسمار کر دیا گیا، جس کا مقصد بظاہر یہ ظاہر کرنا تھا کہ پاکستانی ٓ فوج جوابی کارروائی کر رہی ہے۔
اسی طرح، مقامی ذرائع کے مطابق حال ہی میں دورانِ حراست قتل کیے گئے متاثرین میں سے دو افراد کو 30 ملین (3 کروڑ) پاکستانی روپے تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا (جن میں پیری ولد عیسیٰ اور شاہ بخش ولد عمر شامل ہیں، جو روبر، پیشکان گوادر کے رہائشی تھے اور جنہیں 4 جولائی 2026 کو پاکستانی فوج نے دورانِ حراست قتل کیا)۔ جب متاثرہ خاندان پوری رقم ادا کرنے میں ناکام رہے۔اگرچہ وہ 10 ملین (1 کروڑ) روپے ادا کرنے پر راضی ہو گئے تھےتو پاکساتنی فوج نے کم رقم لینے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً، فوج کی ایک چوکی پر حالیہ حملے کے بعد، ان زیرِ حراست افراد کو قتل کر دیا گیا۔
بی این ایم کا موقف ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ گوادر کی ساحلی پٹی پر پاکستانی فوج کے حملوں کا مقصد محض بلوچ سرمچاروں کا مقابلہ کرنا نہیں ہے، بلکہ اس منافع بخش بین الاقوامی اسمگلنگ روٹ پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنا ہے۔
تاریخی طور پر، پاکستانی فوج نے سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) روٹ کے ساتھ واقع دیہاتوں کو آبادی سے محروم کرنے کے لیے بعینہ یہی حربے استعمال کیے تھے۔ مسلسل چھاپے مارنا، جبری گمشدگیاں، گھروں کو جلانا، اور یہاں تک کہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کا ارتکاب کرنا۔ جس کے نتیجے میں درجنوں بلوچ دیہات کے باشندے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔
آج پانوان کو بھی اسی انجام کا سامنا ہے۔ سیکڑوں باشندے پہلے ہی مغربی بلوچستان (ایرانی بلوچستان) ہجرت کر چکے ہیں، اور فوج کے حالیہ جارحانہ حملوں نے کئی مزید خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے وہ داخلی طور پر بے گھر افراد (IDPs) میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
پاکستان پہلے اپنی مظالم کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کو پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کرتا ہے، اور پھر ان ممالک پر اپنے دشمنوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے۔ دریں اثنا، یہ سرحد پار بلوچ پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسیز کا استعمال کرتا ہے۔ حال ہی میں، وہ خاندان جس کا پانوان میں گھر مسمار کیا گیا تھااور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوئےانہیں دوبارہ نشانہ بنایا گیا جب مغربی بلوچستان میں ان کی نئی رہائش گاہ پر حملہ ہوا، جس میں خاندان کا ایک رکن شدید زخمی ہو گیا۔
بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) نے پڑوسی ممالک، بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کریں۔
بی این ایم نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ قوم کی نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ بلوچ عوام کی آزادی کو بحال کیا جائے۔ اوربلوچ پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، جن کی ایک بہت بڑی تعداد اس وقت افغانستان اور ایران میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔