مقبوضہ بلوچستان میں ریاست پاکستان کے انسانیت کے خلاف جرائم پر بی این ایم کا جرمنی میں احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر کیمنٹز میں مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج میں بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے اجتماعی سزا کی پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ اس صورتحال کی طرف مبذول کرائی گئی۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں ہزاروں خاندان پاکستانی فوج کی اجتماعی سزا کی پالیسی کا شکار ہیں، جس کے تحت سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خاندانوں اور قریبی رشتہ داروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے کئی سینئر رہنما، بشمول ڈاکٹر دین محمد، غفور بلوچ، اقبال بلوچ، محمد رمضان بلوچ، حاصل حسرت اور شاہ نواز بلوچ، جبکہ طلبہ رہنما ذاکر مجید، زاہد بلوچ، شبیر بلوچ، اسد بلوچ اور دیگر کئی افراد ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستانی فوج کے نامعلوم عقوبت خانوں میں جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔

مقررین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کی مسلسل حراست اور عمر قید پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں وہ افراد ریاستی جبر کا نشانہ بن رہے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

اس احتجاج میں بی این ایم جرمنی چیپٹر کے جوائنٹ سیکرٹری جلال بلوچ، کیمنٹز ڈپٹی یونٹ سیکرٹری فیصل بلوچ، اسد زاہد اور حرا بانو نے خطاب کیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article