بلوچ ویمن فورم نے سید بی بی بلوچ کی فورتھ شیڈول کے تحت غیر قانونی حراست کوشہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق پر سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج روکنے کے ہتھکنڈہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں پرامن سیاسی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی آوازوں کو دبانے کے سلسلے میں تیزی لاتے ہوئے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے تربت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بلوچ ویمن فورم کی فعال رکن سید بی بی بلوچ کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔
بلوچ ویمن فورم کی مرکزی ترجمان نے اس گرفتاری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔
مرکزی ترجمان کے مطابق، آج (بدھ کی) دیر شام سی ٹی ڈی (CTD) کے اہلکاروں نے تربت میں سید بی بی بلوچ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور کسی بھی عدالتی وارنٹ یا قانونی جواز کے بغیر انہیں زبردستی حراست میں لے لیا۔
فورم نے واضح کیا کہ سید بی بی بلوچ پر ‘فورتھ شیڈول’ کے تحت جو بھی شرائط عائد کی گئی تھیں، وہ ان کی مکمل پاسداری کر رہی تھیں اور باقاعدگی سے سی ٹی ڈی کے سامنے پیش بھی ہو رہی تھیں۔ اس کے باوجود ان کے گھر میں داخل ہو کر انہیں حراست میں لینا مکمل طور پر ماورائے قانون اقدام ہے۔
🚫 کل ہونے والے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش
اعلامیے کے مطابق، سید بی بی بلوچ کی یہ حراست بی وائی سی (BYC) کی قیادت کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے خلاف تربت میں کل (جمعرات کو) ہونے والی پرامن احتجاجی ریلی کے اعلان کے فوری بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
حکام کی جانب سے یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ سید بی بی بلوچ کو تربت کے ویمن پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے اور انہیں کل کا احتجاج ختم ہونے کے بعد رہا کیا جائے گا۔
بلوچ ویمن فورم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ ریاستی ادارے ‘فورتھ شیڈول’ جیسے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو دہشت گردی کے خلاف نہیں، بلکہ سیاسی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ اور عام شہریوں کی نقل و حرکت اور پرامن احتجاج کے حق کو چھیننے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
بلوچ ویمن فورم کی ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیاکہ کسی بھی شہری کو پرامن سیاسی سرگرمی یا احتجاج سے روکنے کے لیے حراست میں رکھنا صریحاً غیر قانونی، آزادیوں پر قدغن اور بنیادی آئینی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ بلوچستان میں پرامن اختلافِ رائے کو منظم طریقے سے جرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔
بیان کے آخر میں بلوچ ویمن فورم نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ (UN) کے انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں سول آزادیوں کی منظم پامالی کا فوری نوٹس لیں۔ فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ سید بی بی بلوچ کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔پرامن سیاسی ورکرز کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال کو بند کیا جائے۔ پاکستانی حکام کو مقامی آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرنے پر مجبور کیا جائے۔