آزادی پسند اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پاکستانی زیر قبضہ،مقبوضہ کشمیر میں معروف کشمیری قوم پرست تنویر احمد اور سفیر احمد کی گرفتاری کی شدید مزمت کرتے ہوئے،سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ
میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں تنویر احمد اور سفیرکشمیری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہم ان کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہمیں بلوچستان میں اسی طرح کے مسائل اور بربریت کا سامنا پاکستان سے ہے۔
واضح رہے کہ تنویر احمد کو مقامی انتظامیہ نے اس وقت گرفتار کیا جب انہوں نے مقبول بٹ اسکوئیر پہ غیر ریاستی پرچم لہرائے یعنی پاکستانی جھنڈے کو اُتار کر پھینک دیا تھا۔
اس سے قبل صحافی تنویر احمد نے 52 گھنٹے بھوک ہڑتال کی اس کے بعد انتظامیہ نے تسلیم کیا کے یہاں غیر ملکی یعنی پاکستانی جھنڈالگانا درست نہیں، مقامی انتظامیہ نے خود کہا کہ دو دن میں انتظامیہ خود پاکستانی پرچم اتار لے گی تین دن گزرنے کے بعد بھی انتظامیہ نے پرچم نہیں اتارا جس کے بعد 21 اگست کو تنویر احمد نے خود ہی غیر ریاستی پرچم اتار لیا غیر ریاستی جھنڈا اتارنے کی پاداش میں نامور صحافی و محقق تنویر احمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسندوں نے بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے ٹیوٹ کو سراہتے ہوئے بیورو چیف سنگر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دشمن کے زیر قبضہ ہیں اور ہم ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا شکر گزار ہیں جنہوں نے پہلی بار بلوچ قوم کی جانب سے ہمارے لیے آواز اُٹھایا ہے۔