بلوچستان میں کوئٹہ-تفتان (آر سی ڈی) مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد کی جانب سے گاڑیوں کو نشانہ بنانے اور نذرِ آتش کرنے کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مستونگ اور نوشکی کے علاقوں میں تازہ کارروائیوں کے دوران گیس بوزر، معدنیات کے ٹینکرز اور کنٹینر گاڑی کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مستونگ کے علاقے کانک میں ببری کے مقام پر مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر گیس لے جانے والی ایک بوزر گاڑی کو روک کر اسے نذرِ آتش کر دیا۔ اس سے قبل، نوشکی میں احمد وال اور مل کے مقامات پر بھی بڑی کارروائیاں کی گئیں۔
احمد وال کے قریب مسلح افراد نے سڑک کا کنٹرول عارضی طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد معدنیات لے جانے والے تین ٹینکر ٹرکوں اور ایک کنٹینر گاڑی کو آگ لگا دی، جبکہ مل کے مقام پر بھی تین بوزر گاڑیوں اور ایک ٹرالر کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا تھا۔
ان تازہ واقعات کے بعد دالبندین، نوشکی اور مستونگ کی مرکزی شاہراہوں پر رواں ہفتے نشانہ بننے والی گاڑیوں کی مجموعی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔ ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، تاہم یہ مرکزی شاہراہ گزشتہ دو مہینوں سے بلوچ عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں بتائی جاتی ہے۔