بلوچستان کے اضلاع مستونگ اور مرکزی شہر کوئٹہ میں مسلح حملوں کے دو الگ الگ واقعات سامنے آئے ہیں جن میں پاکستانی سیکیورٹی فورسزاہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ فورسز کے جانی نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلا بڑا واقعہ مستونگ کے علاقے دشت کے مقام ‘کوری ڈور’ میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی سپلائی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
اس حملے کے بعد دونوں جانب سے طویل جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلح حملے کے باعث سیکیورٹی فورسز اپنے کیمپوں تک راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچانے میں ناکام رہیں اور جھڑپوں کے دوران فورسز کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف مقامات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید شیلنگ اور فضائی کارروائی بھی کی گئی۔
تاہم، تاحال سرکاری حکام یا عسکری ذرائع کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب کوئٹہ کے اسپن روڈ لنک پر نامعلوم افراد نے فورسز کو دستی بم سے نشانہ بنایا۔
دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں اور سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جہاں ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔
واقعہ کے بعد قانون سیکورٹی اداروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔