کوئٹہ : بی وائی سی قیادت کی سزا کے خلاف مہم تیز ، عوامی بیداری اور کارنر میٹنگز کا سلسلہ جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے خلاف بلوچستان کے مرکزی شہر شال (کوئٹہ) میں عوامی بیداری مہم اور کارنر میٹنگز کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، گزشتہ روز اسیر رہنماؤں کے اہل خانہ کو پریس کانفرنس سے روکنے اور بعد ازاں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے کیمپ سے پی ٹی ایم رہنما سمیت تین افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد شہر میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔

28 جون 2026 کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے شال کے مختلف علاقوں بشمول پوڈگلی چوک، شاہ جی چوک، گوہر آباد اور سریاب میں بڑے پیمانے پر پمفلٹنگ، وال چاکنگ اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا گیا۔

ان کارنر میٹنگز کے دوران بی وائی سی رہنماؤں کی مسلسل حراست اور ان کے خلاف چلائے جانے والے عدالتی ٹرائل کے محرکات کو تفصیلی طور پر اجاگر کیا گیا۔

مقررین نے بلوچستان میں سیاسی آوازوں کو دبانے اور پرامن سیاسی اظہار کو محدود کرنے کے بڑھتے ہوئے ریاستی ہتھکنڈوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف متحد رہیں، انسانی حقوق کے تحفظ اور اسیر قیادت کی فوری رہائی کے لیے پرامن طور پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کی عمر قید کی سزا کے خلاف ان کے اہل خانہ کی جانب سے ایک پریس کانفرنس منعقد ہونا تھی۔ تاہم، حکومتِ بلوچستان اور انتظامیہ بشمول انٹیلی جنس اداروں نے انہیں کوئٹہ پریس کلب کے اندر پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

جب اہل خانہ نے پریس کلب کے باہر روڈ پر کانفرنس کرنے کی کوشش کی تو وہاں بھی انہیں روک دیا گیا، جس کے بعد مجبوراً انہوں نے پریس کلب کے سامنے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں کی عمر قید کی سزا کو انصاف، آئین اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر قانون کا غلط استعمال، غیر شفاف، ذاتی عناد اور انتقامی کارروائیوں پر مبنی ایک تشویشناک اقدام قرار دیا گیا، جس کا مقصد حقیقی سیاسی آوازوں کو دبانا ہے۔ اس موقع پر اہل خانہ نے آج کے روز (29 جون) احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، وی بی ایم پی کیمپ میں پریس کانفرنس کے اختتام کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے کیمپ پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تین افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

لاپتہ ہونے والوں میں پختون تحفظ موومنٹ (PTM) کے مرکزی رہنما زبیر شاہ آغا بھی شامل ہیں، جبکہ دیگردو افرادمیں محمد مری اور محمد اسماعیل مری شامل ہیں جو مقامی دکاندار بتائے جاتے ہیں اور پریس کانفرنس کے شرکاء کے لیے پانی لے کر آئے تھے۔

حراست میں لیے جانے کے بعد سے اب تک ان تینوں افراد کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں اور اہل خانہ و تنظیموں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article