ہمیں قید نہ کریں، براہِ راست مار دیں، سمی بلوچ کا ویڈیو بیان میں ہراساں کرنے اور گھر پر پولیس چھاپے کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

کوئٹہ /سنگر نیوز ویب ڈیسک

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے ایک خصوصی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے انہیں متواتر ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ رات گئے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر اہل خانہ اور پڑوسیوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

سمی دین بلوچ نے اپنے بیان کی شروعات میں کہا کہ آج جو ویڈیو میں ریکارڈ کرنے جا رہی ہوں، وہ مجھے اپنے والد کی جبری گمشدگی کے 17 سال مکمل ہونے پر ریکارڈ کرنی چاہیے تھی، لیکن آج کی یہ ویڈیو میں اس لیے ریکارڈ کر رہی ہوں تاکہ آپ سب کو بتا سکوں کہ کس طریقے سے گزشتہ ایک مہینے سے مجھے متواتر ہراساں، تھریٹ اور انٹیمیڈیٹ (خوفزدہ) کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ گزشتہ ایک مہینے کے دوران میرے گھر کے نیچے، جہاں میں رہتی ہوں، دو دفعہ لیڈیز کانسٹیبلز کے ساتھ پولیس آئی۔ انہوں نے آس پاس کے لوگوں سے میرا پتہ پوچھ کر انہیں ڈرایا اور خوفزدہ کیا۔ اس کے علاوہ میں گھر سے باہر جہاں کہیں بھی نکلتی ہوں، مجھے فالو کیا جاتا ہے اور خوفزدہ کرنے کے لیے میرا پیچھا کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کل رات، ٹھیک چار بجے، میرے گھر کے دروازے تک پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگ آئے، ایک گھنٹے تک وہاں کھڑے رہے، میرا پتہ پوچھا، میرے گھر کے دیگر افراد کے بارے میں تفتیش کی اور آس پاس کے پڑوسیوں کو میرے بارے میں پوچھ گچھ کر کے خوفزدہ کیا۔ آخر میں وہ یہ کہہ کر گئے کہ ہم لوگ دوبارہ آئیں گے۔

سمی دین بلوچ نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کہ اس قسم کے حربے مجھے صرف ڈرانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں یا واقعی مجھے گرفتار کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لیکن اگر مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے یہ ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں، تو ان کے لیے میرا یہ جواب کافی ہوگا کہ میری زندگی کے 17 سال کے آدھے دن اور راتیں پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی کیمپوں میں گزرے ہیں۔ کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد کی سڑکیں اور پریس کلب اس بات کے گواہ ہیں جہاں میں نے اذیتیں اور تکلیفیں سہی ہیں، جہاں میں نے خوف کا سامنا کیا ہے۔ مجھے ہراساں کیا گیا، دھمکایا گیا، میرے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کی گئی، مجھے سڑکوں پر گھسیٹ کر پولیس موبائلوں میں ڈال کر جیلوں تک لے جایا گیا، حتیٰ کہ مجھے خود بھی جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔ میرے خاندان کے دیگر افراد کو لاپتہ کر کے ان کے ذریعے مجھے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے، لیکن ان تمام چیزوں اور ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود میرا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر ریاست نے واقعی مجھے گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو مجھے اس کا کوئی ملال نہیں ہوگا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے والد، جو گزشتہ 17 سالوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور جن کے بارے میں آج تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں، ان کی زندگی کے بارے میں سوال کیا ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے، اپنے خاندان اور اپنی قوم کے ہر فرد کے ساتھ ہونے والے ظلم، جبر اور زیادتی کو دنیا کے سامنے آئیں (عیاں) کیا ہے۔ میں نے ظلم کو ظلم اور زیادتی کو زیادتی کہا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کیا بھی گیا، تو میں قید خانے کی ان دیواروں کے پیچھے سے بھی اپنے لاپتہ والد کے بارے میں سوال کرتی رہوں گی اور ان اداروں سے اپنے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا حساب مانگوں گی۔

سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ حق اور سچ کی آواز کو قید یا خاموش کر کے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔اگر میرے خلاف کوئی قانونی کیس ہے، تو میں اسے لیگل فورمز (قانونی عدالتوں) پر چیلنج کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن اس وقت میرے خلاف کوئی کیس موجود نہیں ہے۔ مسئلہ کیسز کا نہیں، مسئلہ ہمارے آواز اٹھانے کا ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جس طرح ہمارے ساتھیوں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی پر قتل کا من گھڑت کیس بنا کر انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی، میرے اوپر بھی اس قسم کی کوئی جھوٹی ایف آئی آر بنائی جا سکتی ہے۔ لیکن ہماری آواز سچ پر مبنی ہے، یہ بلوچستان میں ہونے والے ظلم کے خلاف ہے اور یہ آواز دبا دینے سے بھی ختم نہیں ہوگی کیونکہ ہماری زندگیاں خود اس جبر کی علامت اور گواہی بن چکی ہیں۔

انہوں نے انتہائی کربناک الفاظ میں اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم شوق سے سڑکوں پر نہیں آتے۔ کسی کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ اپنا بچپن، اپنی زندگی کے اچھے اور برے دن سڑکوں پر اور پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی دھرنوں میں گزارے۔ لیکن آج تک ہمارے درد کو کسی نے محسوس نہیں کیا۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمارے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے لوگوں کو منظرِ عام پر لایا جائے اور ہمیں ایک کلوژر (سکون/جواب) دیا جائے۔ آپ اخلاقی جرات پیدا کر کے ہمیں صرف یہ بتا دیں کہ ہمارے لوگ کہاں ہیں؟ آج آپ خود کو ہماری جگہ، اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں تو آپ کو احساس ہوگا۔

ریاستی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر آپ نے ہماری آوازوں کو دبانا ہی ہے، تو ہمیں جیلوں میں قید نہ کریں، ہمیں ڈائریکٹ (براہِ راست) مار دیں تاکہ ہماری زندگیاں ہی ختم ہو جائیں اور ہم آپ سے سوال کرنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ اگر آپ ہمیں ایک ساتھ بٹھا کر ہماری لاشیں بھی گرا دیں گے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ جس کربناک زندگی کو گزارنے پر ہم مجبور ہیں، ہم بغیر کسی کلوژر کے اسے آگے نہیں بڑھا سکتے۔ لیکن جب تک ہمارا وجود اس زمین پر قائم ہے، ہماری زندگیاں آپ سے سوال کرتی رہیں گی۔

بیان کے آخر میں سمی دین بلوچ نے مطالبہ کیا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کے لوحقین اور سیاسی ورکروں کے ساتھ یہ جابرانہ رویہ ترک کیا جائے اور ہمارے بنیادی انسانی و آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ آپ لوگوں کو لاپتہ کریں، مسخ شدہ لاشیں پھینکیں، اجتماعی قبریں دیں اور پھر یہ امید رکھیں کہ سہنے والے اف تک نہ کریں اور سوال بھی نہ اٹھائیں، ایسا ممکن نہیں ہے۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ اگر یہی عذاب آپ کے اپنوں پر گزرے تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟ ہمارے جائز مسئلوں کو سننے اور انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری آواز کو کسی بیرونی ایجنٹ یا مسلح تنظیم سے جوڑنے کے ہتھکنڈے بند کیے جائیں۔ آپ کو جیل میں ڈالنا ہے ڈالیں، ہراساں کرنا ہے کریں، سالوں لاپتہ کرنا ہے کریں، آپ 20 سال سے یہی کر رہے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ جب تک آپ ہمارے سوالوں کے جواب نہیں دیں گے، یہ آوازیں اور یہ مطالبات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article