بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں اور لاپتہ کرنے کی کارروائیوں میں مزید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
تازہ ترین واقعے میں، بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی سے سیکیورٹی فورسز نے ایک ہی گھر پر چھاپہ مار کر دو سگے بھائیوں کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کی جانب سے جاری کردہ پوسٹرز اور خاندانی ذرائع کے مطابق، لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی شناخت رحیم لال اور امیر لال کے ناموں سے ہوئی ہے، جو لال بخش کے بیٹے ہیں۔
یہ کارروائی 26 جون 2026 کو پسنی کے علاقے پراہگ محلہ، وارڈ نمبر 7 میں واقع ان کی رہائش گاہ پر کی گئی۔
اہل خانہ کے مطابق، فورسز نے گھر میں داخل ہو کر دونوں بھائیوں کو حراست میں لیا اور اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے ان کا اپنے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
مقامی سماجی حلقوں اور لاپتہ افراد کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بغیر کسی قانونی وارنٹ یا مروجہ عدالتی طریقۂ کار کے شہریوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور ملکی آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے دونوں نوجوانوں کی فوری بازیابی اور انہیں منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔