بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزاسنائے جانے کے خلاف بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے سریاب مل کالونی روڈ پر عوام نے احتجاجاً روڈ بند کرکے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ بروز جمعہ شام کے وقت سریاب مل کالونی روڈ بلوچ عوام نے بغیر کسی منظم ادارے کے گھنٹو روڈ بند رکھ کر یہ پیغام دیا کہ بلوچ سیاسی رہنماؤں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا ایک غیر انسانی اور غیر منصفانہ عمل ہے، جسے بلوچ عوام سیاسی انتقام کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو اپنے حقوق کی آواز سمجھتی ہے جس کے خلاف لیے گئے اقدامات کو عوام دشمن پالیسیاں سمجھتی ہے۔ آج عوام کا یہ غصہ ظاہر کر رہا ہے کہ ریاست کی یہ پالیسی عوام کو ریاست سے ایک قدم اور دور کردیگی ۔
بیان میں کہا گیا کہ جمہوری سیاسی آوازوں کو دبانے کے بجائے عوامی مسائل، آئینی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ایسے فیصلے جو انصاف، شفاف ٹرائل اور بنیادی حقوق کے سوالات اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف عوامی ردعمل ایک فطری عمل ہے۔
بی وائی سی نے کہا کہ بلوچ عوام اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور ہر اس عمل کی مخالفت کریں گے جو بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہوں۔ بلوچ عوام کی مزاحمت محض انصاف کے حصول لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے ہے جسے ریاست کے حالیہ اقدامات ٹھیس تو پہنچا سکتے ہیں مگر ختم نہیں کر سکتی۔یہ صرف تنظیم کا نہیں بلکہ بلوچ عوام کا مطالبہ ہے کہ بی وائی سی کے رہنماوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔