تاریخ کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جب قومیں صرف ہتھیاروں اور جیلوں سے نہیں بلکہ فیصلوں، فتوؤں، قوانین اور عدالتوں کے ذریعے بھی آزمائی جاتی ہیں۔ طاقت جب اپنے وجود کو دوام بخشنے کے لیے اداروں کا سہارا لیتی ہے تو بظاہر سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے میں نظر آتا ہے، مگر مظلوم اقوام کے دلوں میں ایک سوال مسلسل زندہ رہتا ہے: کیا انصاف واقعی آزاد ہے، یا طاقت کے سایے میں سانس لے رہا ہے؟ بلوچستان کی سیاسی تاریخ بھی ایسے ہی سوالات سے بھری ہوئی ہے۔
دہائیوں سے بلوچ قوم کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ان کے سیاسی کارکنوں، طلبہ، دانشوروں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کو اکثر ریاستی جبر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی کوئی نئی گرفتاری، مقدمہ یا عدالتی فیصلہ سامنے آتا ہے تو بلوچ قوم اسے صرف ایک قانونی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اپنی اجتماعی تاریخ کے تناظر میں اس کا جائزہ لیتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سنائے گئے حالیہ عدالتی فیصلے نے بھی اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
بلوچ قوم کے نزدیک یہ صرف چند افراد کا مقدمہ نہیں بلکہ اظہارِ رائے، سیاسی اختلاف اور قومی شعور کے مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے نے قانونی بحث سے زیادہ سیاسی اور اخلاقی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک قوم اس وقت سب سے زیادہ بے چین ہوتی ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کی آواز نہیں سنی جا رہی۔ جب سوال پوچھنے والوں کو خطرہ سمجھا جائے، جب اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے اور جب تنقید کو جرم قرار دیا جائے تو معاشرے میں اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ اعتماد صرف طاقت سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔
بلوچستان کی سرزمین اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں مزاحمت کی روایت بہت پرانی ہے۔ اس خطے کے لوگوں نے مختلف ادوار میں اپنی شناخت، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں شعور اور سیاست کو ہمیشہ خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک باشعور نوجوان، ایک سوال کرنے والا طالب علم اور ایک لکھنے والا قلم اکثر طاقتور حلقوں کے لیے اس لیے پریشان کن بن جاتا ہے کیونکہ وہ خاموشی کو قبول نہیں کرتا۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں چل سکتیں۔ طاقت وقتی خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر مستقل استحکام نہیں۔ حقیقی استحکام انصاف، مساوات اور اعتماد سے پیدا ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ تک، اور مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک، جہاں کہیں بھی سیاسی مسائل کو صرف طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں مسائل مزید پیچیدہ ہوئے۔
بلوچستان کے نوجوان آج بھی اسی سوال کے ساتھ کھڑے ہیں کہ ان کی آواز کہاں سنی جائے گی؟ ان کے خدشات کا جواب کون دے گا؟ یہ سوال محض سیاست کے نہیں بلکہ انسانی وقار کے سوالات ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جیسی شخصیات بلوچ نوجوانوں کے لیے ایک علامت بن چکی ہیں۔ چاہے کوئی ان کے سیاسی مؤقف سے اتفاق کرے یا اختلاف، یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اسی وجہ سے ان کے خلاف ہونے والی ہر کارروائی بلوچستان سمیت ہر طبقے میں شدید ردِعمل پیدا کرتی ہے۔ تاہم تاریخ کا ایک سبق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ جیلیں جسموں کو محدود کر سکتی ہیں، مگر خیالات کو نہیں۔ دنیا کے بے شمار سیاسی رہنما، دانشور اور کارکن اپنی زندگیوں میں قید و بند، جلاوطنی اور دباؤ کا سامنا کرتے رہے، مگر ان کے خیالات زندہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومیں افراد کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں اور انہیں اپنی اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا لیتی ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ وقتی طاقت نہیں کرتی بلکہ وقت کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس کے پاس زیادہ طاقت تھی، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون انصاف، حق اور انسانی وقار کے قریب کھڑا تھا۔ اسی لیے قومیں اپنے دکھ، اپنی قربانیوں اور اپنی جدوجہد کو یاد رکھتی ہیں۔ شاید اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کا رخ متعین نہیں کر سکتا۔ تاریخ کے صفحات آخرکار کھلتے ہیں، سوال اٹھتے ہیں، حقائق سامنے آتے ہیں اور آنے والی نسلیں اپنا فیصلہ خود سناتی ہیں۔
بلوچستان کے نوجوانوں، ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کے دلوں میں آج بھی یہی امید زندہ ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب انصاف صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہوگا؛ جب اختلاف جرم نہیں سمجھا جائے گا؛ اور جب ہر انسان کو اپنی رائے، شناخت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہوگا۔
بلوچستان کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے جسے مذاکرات یا اصلاحات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر بلوچ قوم کے نزدیک یہ محض سیاسی نمائندگی، وسائل کی تقسیم یا انتظامی اختیارات کا مسئلہ نہیں، بلکہ ان کے وجود، قومی شناخت، تاریخی سرزمین اور حقِ خود ارادیت کا سوال ہے۔ بلوچ قوم کا مؤقف ہے کہ بلوچستان پر ہونے والے قبضے کو انہوں نے کبھی اپنی رضامندی سے قبول نہیں کیا اور اسی وجہ سے مزاحمت کی مختلف صورتیں آج بھی جاری ہیں۔
ان کے نزدیک مسئلے کی جڑ معاشی یا انتظامی نہیں بلکہ قومی اور تاریخی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ سیاسی کارکن، دانشور اور قومی رہنما دہائیوں سے عالمی فورمز پر اس مسئلے کو ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر پیش کرتے آرہے ہیں۔ بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہزاروں بلوچ افراد جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور سیاسی جبر کا شکار ہوئے ہیں۔
یہی حقیقت مختلف اوقات میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اجلاسوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ کے سامنے بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بلوچ قومی شعور میں یہ احساس گہرا ہے کہ اصل تنازع صرف زمین یا وسائل کا نہیں بلکہ ایک قوم کے وجود اور اس کی شناخت کا ہے۔ اسی لیے بلوچ قوم کے نزدیک مسئلے کا مستقل حل صرف وہی ہو سکتا ہے جو بلوچ قوم کی اجتماعی خواہشات، تاریخی مؤقف اور حقِ خود ارادیت کو مدنظر رکھ کر طے کیا جائے۔ ان کے نزدیک آزادی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی بقا، شناخت کے تحفظ اور مستقبل کے تعین کا سوال ہے۔
بلوچ قوم کے نزدیک آج کا مقدمہ صرف چند سیاسی کارکنوں یا رہنماؤں کا مقدمہ نہیں، بلکہ ان تمام ماؤں کا مقدمہ ہے جو اپنے لاپتہ بیٹوں کی راہ دیکھ رہی ہیں؛ ان تمام خاندانوں کا مقدمہ ہے جو انصاف کے انتظار میں ہیں؛ اور ان تمام نوجوانوں کا مقدمہ ہے جو اپنی شناخت، اپنے مستقبل اور اپنے قومی وجود کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ ممکن ہے آج فیصلے طاقت کے ایوانوں میں لکھے جا رہے ہوں، ممکن ہے آج جبر کو قانون کا نام دیا جا رہا ہو، ممکن ہے آج اختلافِ رائے کو جرم قرار دیا جا رہا ہو، مگر تاریخ کا قلم ہمیشہ طاقتور کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔
ایک وقت آتا ہے جب قوم اپنے دکھ، اپنی قربانیوں اور اپنے تجربات کو تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ آج جو لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں، بلوچ قوم کے نزدیک وہ مجرم نہیں بلکہ ایک سیاسی مؤقف کی علامت ہیں ۔ وقت گزر جائے گا، جج بدل جائیں گے، حکومتیں بدل جائیں گی، اقتدار کے مراکز بھی بدل جائیں گے، مگر یہ سوال باقی رہے گا کہ کیا انصاف واقعی انصاف تھا؟ کیا قانون واقعی غیر جانب دار تھا؟ اور کیا مظلوم کی آواز کو سننے کی کوشش کی گئی تھی؟ یہی سوالات تاریخ کے صفحات پر زندہ رہتے ہیں، اور یہی سوالات آنے والی نسلوں کے سامنے اپنا فیصلہ رکھتے ہیں۔
شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آخری فیصلہ ہمیشہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوتا؛ آخری فیصلہ وقت کرتا ہے، تاریخ کرتی ہے، اور وہ قومیں کرتی ہیں جو اپنے اجتماعی حافظے میں حق اور ظلم دونوں کو محفوظ رکھتی ہیں۔قید کی سلاخیں انسانوں کو محدود کر سکتی ہیں، مگر وہ ان سوالوں کو قید نہیں کر سکتیں جو ایک قوم کے اجتماعی شعور میں جنم لے چکے ہوں۔
***