ڈاکٹر ماہ رنگ اور شاہ جی کو عمر قید کی سزا، بی وائی سی کا بدھ کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اپنی قیادت، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی بلوچ کے خلاف فیس لیس ٹرائلز کے ذریعے سنائے گئے فیصلوں کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں تنظیم کی جانب سے ‘بلوچ راج’ کے نام ایک تفصیلی پمفلٹ جاری کیا گیا ہے جس میں تمام تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور بلوچ قوم سے ہڑتال میں بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔

پمفلٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ "بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ، اور دیگر ساتھیوں کو ایک منظم ریاستی پالیسی کے تحت خاموش کروانے، بلوچ عوام کی آواز کو دبانے اور سیاسی جدوجہد کو کچلنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صرف چند سیاسی کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کی سیاسی آواز، اجتماعی شعور اور پرامن مزاحمت کے خلاف ایک جابرانہ اقدام ہے۔”

بی وائی سی کے مطابق "بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی، ریاستی جبر، عسکری پالیسیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تشدد، خوف اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ بی وائی سی نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ بلوچ قوم پاکستانی ریاست کی جبر پر مبنی اس نظام کی شکنجے میں ہے جہاں عوام کے بنیادی سیاسی، انسانی اور قومی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔”

غیور بلوچ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ "یہ وقت خوف کا نہیں، قومی ذمہ داری نبھانے کا ہے۔ یہ وقت تنہائی کا نہیں، اجتماعی یکجہتی کا ہے۔ ہمیں یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کرنے والوں کو تشدد، مقدمات، قید، ناانصافی اور عمر قید کی سزاؤں کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔”

پمفلٹ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی سزا کے خلاف ہر طبقہ فکر کو منظم ہو کر کھڑے ہونے کی دعوت دی گئی ہے:

"اگر ہم لکھ سکتے ہیں تو اس جبر کے خلاف لکھیں۔”
"اگر ہم بول سکتے ہیں تو عوامی سطح پر آواز بلند کریں۔”
"اگر ہم کاروباری افراد ہیں تو تنظیم کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔”
"اگر ہم ٹرانسپورٹرز ہیں تو پرامن بائیکاٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔”
"اگر ہم سرکاری ملازمین ہیں تو ہڑتال کی حمایت میں جمہوری اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔”
"اگر ہم طلبہ ہیں تو تعلیمی اداروں میں سیاسی شعور، مکالمہ اور یکجہتی کو مضبوط کریں۔”
"اگر ہم لکھاری، دانشور یا صحافی ہیں تو اس ناانصافی کو تاریخ، سماج اور دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔”

پمفلٹ کے آخر میں مطالبات کیا گیا ہے کہ بلوچ سیاسی قیدیوں کو رہا کرو۔بلوچستان میں ریاستی جبر بند کرو۔پرامن سیاسی جدوجہد کو مجرم بنانا بند کرو۔سوشل بائیکاٹ، شٹر ڈاؤن اور عوامی یکجہتی کو کامیاب بناؤ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article