ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا اوپن کورٹ کے بجائے ویڈیو لنک پر ٹرائل دفاع کے حق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے، عمران بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بی ایس او کے سابق چیئرمین عمران بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مھرنگ بلوچ اپنے دیگر ساتھیوں صبغت اللہ شاہ جی، بیبگر بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کے ہمراہ گزشتہ چودہ ماہ سے بے بنیاد و جھوٹے مقدمات کے تحت ہدہ جیل میں قید ہیں عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے اسے طول دے رہا ہے پہلے کورٹ ٹرائل کو جیل ٹرائل میں اور اب اسے ویڈیو ٹرائل میں منتقل کرنا جوکہ آزادانہ دفاع کے حق اور اوپن ٹرائل کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے عالمی اور ملکی قوانین کے تحت ہر شہری کا حق ہے کہ اس کا مقدمہ کُھلی عدالت میں چلایا جائے تاکہ عوام دیکھ سکیں کہ انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہورہے ہیں لیکن ڈاکٹر مھرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کا کُھلی عدالت کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل چلانا ان کو دفاع کے حق سے محروم رکھنا عدالتی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے_

گزشتہ چودہ ماہ سے قید ڈاکٹر مھرنگ بلوچ کے خلاف متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی گواہ نا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیے گئے اختلاف رائے کو جرم بناکر انہیں قید میں رکھ کر انصاف کے حصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے جوکہ ناقابل برداشت ہیں_

اسلام آباد نے بلوچستان کے اندر اپنی غیر انسانی، غیر جمہوری اور فاشسٹ کاروائیوں کی شدت بڑھاتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں اور جمہوری اقدار پر مکمل آمرانہ قدغن،قومی جدوجہد سے منسلک سیاسی کارکنوں کو ضمیر کا قیدی بناکر عقوبت خانوں میں جبر و تشدد کا شکار بنانے اور عسکری کاروائیوں کے ذریعے بلوچستان کو بلوچ عوام کا مقتل گاہ میں تبدیل کرتے ہوئے انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار کردیا ہے بلوچستان کے عوام کو اپنے جائز انسانی حقوق چاہنے کی پاداش میں غیر انسانی سزا دی جارہی ہے۔

ڈاکٹر مھرنگ بلوچ جو بلوچ قوم کی منظم و توانا آواز ہے جس نے ریاستی ظلم،جبر و ناانصافیوں کو پوری دنیا میں آشکار کردیا جس کی پاداش میں آج انہیں جیل کی کال کوٹھریوں میں بند کردیا گیا ان کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے سچ و راستی کی راہ چن کر ان ماؤں کی آواز بنی جن کے لخت جگر جن کے بیٹے لاپتہ ہیں ان بچوں کی آواز بنی جن کے والدین لاپتہ کردیئے گئے ہیں ان بہنوں کی آواز بنی جن کے بھائی حفیہ ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز تشدد کا سامنا کررہے ہیں ان خواتین کی آواز بنی جن کے شوہر لاپتہ کردیئے گئے ہیں جو بیواؤں کی سی زندگی گزار رہے ہیں بلوچ کی اس بہادر بیٹی نے ان ظالم و سفاک قاتل حکمرانوں کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی دلیری و ہمت سے پرامن رہ کر ان کے ظلم و ذیادتیوں کو بیان کیا بلوچ کو اتحاد،یکجہتی اور یگانگت کا درس دیتی رہی جوکہ یہاں کے فوجی جنتا کو قطعاٙٙ قبول نہیں ڈاکٹر کی جدوجہد ملکی آئین و قانون کے مطابق تھی اس نے کبھی آئین و قانون سے متصادم عمل نہیں کیا لیکن پھر بھی جیل کی صعوبتیں برداشت کررہی ہے جوکہ ملکی عدلیہ کے منہ پر تماچہ ہیں ڈاکٹر مھرنگ بلوچ اور دیگر ساتھی چار دن سے جیل میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں_

سیاسی سماجی کارکنان سمیت ہر باشعور بلوچ کو اس ناانصافی پر آواز بلند کرنی چائیے_ہم انسانی حقوق کے ملکی بین الاقوامی تنظیمیں سے اپیل کرتے ہیکہ وہ ریاست کے اس غیر آئینی و غیر قانونی عمل کے خلاف اقدامات اٹھاکر ڈاکٹر مھرنگ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اس ناروا سلوک پر کردار ادا کرکے شفاف عدالتی کاروائی کو یقینی بنانے پر زور دے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article