پاکستان زیرِقبضہ کشمیر کے ضلع کوٹلی میں صورتحال انتہائی دھماکہ خیز اور ہولناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید ترین جھڑپیں اور تصادم کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد شہریوں کی ہلاکتوں اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین نے انتہائی ہولناک دعوے کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستانی رینجرز اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے شہریوں کے گھروں کے اندر گھس کر کارروائیاں کی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فورسز کی فائرنگ سے ایک مقامی ڈاکٹر کو ان کے گھر کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ ایک نوجوان خاتون وکیل کو بھی گھر کی چاردیواری کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں معزز شہری عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ یا کسی احتجاج کا حصہ نہیں تھے، جس نے اس ریاستی کارروائی کی نوعیت اور عام شہریوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دوسری جانب، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام مظفرآباد کی جانب بڑھنے والے لانگ مارچ پر بھی فورسز کی جانب سے سیدھی فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 سے 4 نوجوان مظاہرین موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ درجنوں زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سنگین جانی نقصان کے باوجود میرپور ڈویژن کے مختلف علاقوں (بھمبر، برنالہ، سماہنی) سے آنے والے قافلے سڑکوں پر موجود بھاری رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے کوٹلی کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، جن کا حتمی مقصد مظفرآباد پہنچنا ہے۔
مقامی کارکنان اور مظاہرین نے پاکستانی میڈیا کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بعض پاکستانی میڈیا ادارے زمینی حقائق کے برعکس یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کشمیری عوام نے فورسز کے خلاف اسلحہ اٹھا لیا ہے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ان کی تحریک خالصتاً پرامن، عوامی اور سیاسی و اقتصادی مطالبات پر مبنی ہے، اور ان کے خلاف یکطرفہ ریاستی طاقت اور گولیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
کوٹلی اور ریاست کے دیگر حصوں میں جاری اس خونریزی پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا یہ وحشیانہ استعمال جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ جموں کشمیر کا یہ علاقہ آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اس لیے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں خطے میں جاری اس مبینہ قتلِ عام اور بربریت کو رکوانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کریں۔
سرکاری سطح پر کوٹلی کی اس مخدوش صورتحال، ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور فورسز کی کارروائیوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ ایک دن قبل فورسز نے راوالاکوٹ میں نہتے مظاہرین پر چڑھائی کرکے درجنوں افراد کو قتل کیا ہے اور ہسپتال پر مکمل فوج کا کنٹرول ہے جس سے معلومات تک مکمل رسائی نہیں ہورہی ہے ۔عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو فوٹیجز میں صورتحال تشویشناک ہے ,4 درجن کے قریب لوگوں کو قتل کیا گیا ہے ،ہسپتال کے آگے جہاں دھرنا جاری تھا کی سڑکیں خوب سے سرخ دکھائی دی جارہی ہیں۔
دوسری جانب انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی بندش سے صحیح معلومات تک رسائی ممکن نہیں ہوپارہی ہے اور حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ 4 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد اب تک ان جھڑپوں میں ہلاک ہوئے ہیں تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی درست تعداد کو چھپایا جارہا ہے ۔