جبری لاپتہ حبیبہ پیر جان کے گھر پر فورسز کا پھر سے چھاپہ، توڑ پھوڑ، موبائل فونز لے گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں دوسری مرتبہ جبری لاپتہ بلوچی کے شاعرہ حبیبہ پیر جان کی صاحبزادی حنا بلوچ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان اور رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسزنے پھر سے گھر پر چھاپہ مارکر اہلخانہ کو ہراساں کیا اور موبائل فونز چھین کر لئے گئے۔

یاد رہے کہ حبیبہ پیر جان کو دوسری مرتبہ 25 مئی 2026 کو کراچی میں سیکیورٹی فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیاتھا۔

حراست میں لینے کے بعد فورسز نے ان کے گھر پر ایک بار پھر چھاپہ مارا، جہاں تلاشی کے دوران اہل خانہ کے موبائل فونز ضبط کر لیے گئے اور گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی، جس سے خاندان شدید ذہنی اذیت اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔

حبیبہ پیر جان کو اس سے قبل سال 2022 میں بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اور یہ دوسری مرتبہ ہے کہ انہیں دوبارہ حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔

شدید ذہنی کرب سے گزرنے والی حبیبہ پیر جان کی صاحبزادی حنا بلوچ نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بلوچ قوم اور انسانی حقوق کے محافظوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی والدہ کی باحفاظت رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔

حنا بلوچ کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں صرف لاپتہ کیے جانے والے شخص تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے رہ جانے والے پورے خاندان کو انصاف، جواب اور اپنے پیاروں کی واپسی کی ایک کبھی نہ ختم ہونے والی دردناک جدوجہد میں دھکیل دیتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، حبیبہ پیر جان کا کیس بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ دستاویز "Staged PC Final.pdf” میں اٹھائے گئے ان خدشات کی مہرِ تصدیق ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اب بلوچ خواتین کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ معاشرے میں خوف پھیلا کر پرامن آوازوں کو دبایا جا سکے۔ ایک شاعرہ اور خاتون کو دوسری بار لاپتہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جبر کا دائرہ کار اب سماج کے ہر طبقے تک پھیلایا جا چکا ہے۔

بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، ادبی حلقوں، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور تمام باضمیر افراد سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ حبیبہ پیر جان کی فوری اور بحفاظت رہائی کے لیے متحرک ہوں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے اس عمل کو کسی صورت بھی "نارمل” (Normal) نہیں بننے دیا جائے گا اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مسلسل آواز اٹھائی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article